پشاور: حفاظت اقدام، جان کا عذاب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹریفک میں نظم و ضبط کی کمی پہلے بھی ایک مسئلہ رہی ہے لیکن ایسا مسئلہ نہیں جو اب ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکزی سڑکوں پر سکیورٹی چیک پوسٹیں بظاہر تو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیں لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہی ناکے شہریوں کے مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شہر کے اندر اہم گزرگاہوں پر ترقیاتی کاموں کی وجہ سے بھی ٹریفک کے مسائل روز بروز دوگنے ہوتے جا رہے ہیں۔

پشاور کے کارخانو مارکیٹ سے لے کر حاجی کیمپ تک تقریباً دس سے پندرہ کلومیٹر کے اس فاصلے پر درجنوں سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم ہیں۔

یہ ناکے پولیس اور فوج کی طرف سے مشترکہ طور پر بنائے گئے ہیں۔ شہر میں بعض حساس مقامات سے گزرنے والی سڑکوں پر نہ صرف سکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد زیادہ ہے بلکہ وہاں سے پبلک ٹرانسپورٹ کو گزرنے کی اجازت بھی نہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے مجبوراً لمبے راستوں سے جانا پڑتا ہے۔

ان میں کینٹ کا علاقہ خاص طورپر قابل ذکر ہے۔ اس علاقے سے گزرنے والی خیبر روڈ پر صوبے کے تمام ’وی آئی پیز‘ کے دفاتر اور رہائش گاہیں سڑک کے کنارے یا اس سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہیں۔

ان میں وزیراعلٰی، گورنر اور کورکمانڈر بھی شامل ہیں جبکہ حساس اداروں کے دفاتر، عدالتیں اور صوبائی اسمبلی کی عمارت بھی اسی سڑک پر واقع ہے۔

اس یک طرفہ (ون وے) سڑک پر دن کے وقت ویسے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کو گزرنے کی اجازت نہیں جبکہ رات کے وقت یہاں کچھ عجیب ہی منظر ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ خیبر روڈ سے رات کے وقت اپنے گاڑی سے گزرے یعنی پہلے اسے اس راستے کا علم نہ ہوں تو غالب امکان یہی ہے کہ اس کی گاڑی یا تو کسی چیک پوسٹ کی رکاوٹوں سے ٹکرائے گی یا گاڑی سڑک کے غلط طرف نکل جائی گی جس سے اکثر اوقات ایکسڈنٹ کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔

اس اہم روٹ پر اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ رات دس بجے کے بعد اس دو طرفہ سڑک کو جگہ جگہ پر یکہ طرفہ کر دیا جاتا ہے لیکن اس کے لیے بھی عجیب و غریب طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ اگر کسی جگہ سڑک کو بائیں طرف سے بند کیا گیا ہے تو کچھ فرلانگ کے فاصلے کے بعد اسے دائیں طرف بند کر دیا جاتا ہے جس سے گاڑی چلانے والے کو کبھی دائیں گھسنا پڑتا ہے اور کبھی بائیں۔

پشاور شہر سے گزرنے والی مرکزی سڑک کے آس پاس پہلے ایسی کئی رابط سڑکیں قائم تھیں جن پر صبح سے شام تک ٹریفک رواں دواں رہتی تھیں لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کے باعث وہ تمام سڑکیں اب بند کردی گئیں ہیں۔ بعض جگہوں پر تو ان سڑکوں کے درمیان میں پختہ دیورایں کھڑی کر کے ان کو مستقل طورپر ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دیا گیا ہے جس سے ٹریفک کا سارا دباؤ مرکزی سڑکوں پر آ گیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کی ایک بڑی وجہ شہر کی مرکزی سڑکوں پر جاری ترقیاتی کام بھی بتائے جاتے ہیں جس سے اہم جگہوں پر صبح سے شام تک ٹریفک جام نظر آتی ہے۔

صوبائی اسمبلی کی عمارت اور گل بہار کے علاقے میں بڑے بڑے منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت انڈر پاسز اور اوور ہیڈ پل بنائے جائیں گے۔ اگرچہ ان منصوبوں کے تکمیل سے شہر کے ٹریفک کے مسائل کافی حد تک کم ہوجائیں گے تاہم موجود حالات میں ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے کےلیے کوئی مناسب حکمت عملی نظر نہیں آتی جس سے ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

Image caption ٹریفک کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم دوسری طرف اعلٰی ٹریفک حکام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شہر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات اور انفرسٹرکچر نہ ہونے کے باعث ٹریفک کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک اعلی ٹریفک افسر کے مطابق پشاور میں پچھلے چار پانچ سالوں سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کی ساری توجہ اب اس بات پر ہے کہ سب سے پہلے شہریوں کی جان و مال کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ان کے مطابق کچھ عرصہ سے ٹریفک کے شعبہ میں سرمایہ کاری بھی نہیں کی گئی ہے جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں لیکن اب اس شعبہ کی جانب خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ضرورت بھی محسوس کی گئی ہے۔

پشاور وی آئی پی یا اعلیٰ شخصیات کی نقل و حرکت بھی ٹریفک میں خلل کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آج کل تو شہر میں دن کے دوران ہر وقت ایمرجنسی پولیس کے سائرن بجتے رہتے ہیں جس کا مطلب یا تو کوئی وی آئی پی جا رہا ہوتا ہے یا کسی غیر ملکی کو سکیورٹی دی جا رہی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں