’پاکستان سے رسد کا راستہ امریکہ کے لیے اہم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلالہ چوکی پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطح کا یہ پہلا رابطہ ہے۔

پاکستانی اور امریکی فوجی سربراہان کی ملاقات کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سے افغانستان کا راستہ امریکہ کے لیے اہم ہے۔

اس سے قبل پچھلے سال مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکی پر نیٹو حملے کے بعد پہلی بار امریکی افواج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز این میٹس اور افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے نگراں جنرل جان ایلن کی ملاقات پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ہوئی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی ار نے ایک بیان میں کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے فوجی سربراہان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

اس ملاقات میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی تحقیقات اور سرحدی تعاون کے طریقہء کار پر بات ہوئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز این میٹس اور افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے نگراں جنرل جان ایلن نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل خالد شمیم سے بھی ملاقات کی۔

امریکی وزارتِ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی سربراہان کی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات پر بات چیت ہوئی۔

ترجمان نے کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ کے واقعے کے بعد یہ پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوجی افسران کے روابط قائم رہے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس ملاقات کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج کو پاکستان کے راستے رسد کو جلد بحال کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ’یہ راستہ امریکہ کے لیے اہم ہے۔‘

جارج لٹل نے کہا ہے کہ سلالہ چیک پوسٹ کے حملے کے بعد سے دونوں فوجوں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام میں کافی بہتری آئی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی رسد کھولنے اور امریکہ سے از سرِ نو سفارتی تعلقات کے تعین کے بارے قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر بحث کے لیے پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کی کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات میں امریکہ سے پاکستان کی سرحدی چوکی پر فضائی حملے پر معافی مانگنے اور ڈرون حملے بند کرنے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔

پیر کے روز تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایک ملاقات کے دوران پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے امریکی ایلچی مارک گراسمین سے ملاقات میں کہا ہے کہ ہمیں پارلیمان کی طے شدہ حدود میں رہ کر کام کرنا ہے اور اس کو بائی پاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔

صدر زرداری نے ڈرون حملوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا بقول ان کے ڈرون حملوں سے فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے کہ کیونکہ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد عسکریت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے۔

امریکی ایلچی نے یقین دلایا تھا کہ امریکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے پارلیمان کے ازسرنو جائزے کا احترام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہمارے بہت سارے مشترکہ مفادات اور ہداف ہیں اور ان کے حصول کے لیے اکٹھے کام کیا جا سکتا ہے۔‘

گزشتہ نومبر افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی چوکی پر نیٹو افواج کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے اپنے زمینی راستے بند کر دیے تھے۔ تاہم نیٹو اور امریکہ نے تفتیش کے بعد اس حملے کو غلط فہمی پر مبنی قرار دے کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں