کوئٹہ: فائرنگ کےمختلف واقعات میں 8 ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ پولیس نے کئی مشکوک افراد کو حراست میں لیاہے۔

کوئٹہ کے اسپنی روڈ پر گزشتہ روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔ اس واقعے کے بعد شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے اور دن بھر کوئٹہ کی سڑکوں پر ٹائرجلتے رہے۔

اس دوران مظاہرین نے پتھراؤ بھی کیا جس کے باعث اکثر دکانیں اور کاورباری مراکز رات تک بند رہے۔ احتجاج کے دوران بروری کے علاقے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک پولیس سپاہی سمیت مزید تین افراد ہلاک ہوگئے۔

اس طرح کوئٹہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ سات افراد زخمی ہیں۔

فائرنگ کے خلاف آج کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوا می پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے شٹرڈاؤن ہڑتال کرنے کا اعلان کیاہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدرعثمان کاکڑ نے تاجروں اور عوام سے آج کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل بھی کی ہے۔ جبکہ دوسری جانب شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مختلف تنظیموں نے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیاہے۔

گزشتہ شام کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر اشرف زیدی نے صوبائی حکومت میں پیش آنے والے اس واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے آڑتالیس گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

تاہم پولیس نے شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک درجن سے زیادہ افراد کو حراست میں لیاہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ قاضی واحد کے مطابق پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سریاب کے علاقے سے پینتالیس مشکوک افراد کو حراست میں لیاہے۔

اسی بارے میں