پشاور، ڈاکٹر شکیل آفریدی برطرف

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو نوکری سے برطرف کردیا ہے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سابق ایجنسی سرجن اور گریڈ اٹھارہ کے افسر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قواعد اور سروس رولز کے خلاف ورزی پر نوکری سے برطرف کیا گیا ہے۔

محکمہ صحت حکام کے بقول ایبٹ آباد میں سی آئی اے کے کہنے پر جعلی حفاظتی ٹیکوں کے مہم میں معاونت کرنے پر پیرامیڈیکل سٹاف کے سترہ اہلکاروں کو پہلے ہی نوکریوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔

ان برطرف کیے جانے والے اہلکاروں میں خواتین ہیلتھ ورکرز، لیڈی ڈاکٹر اور ایک اسٹسنٹ کوارڈنیٹر شامل ہیں۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے دو مئی کی کارروائی کے بعد امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری کےلیے امریکہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات حاصل کی تھیں جنہوں نے پہلے ایبٹ آباد کے نسبتاً غریب علاقوں میں لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کو حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا خیال اس مرحلے پر آیا جب وہ اسامہ بن لادن کے پیغام رساں ابو احمد الکویتی کا پیچھا کرتے ایبٹ آباد کے اس عمارت تک پہنچ چکے تھے جو بعد میں القاعدہ رہنماء کی پناہ گاہ ثابت ہوئی۔

سی آئی کے اہلکار سیٹلائیٹ اور دیگر ذرائع سے اس عمارت کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ ایک دوسری ملک میں پرخطر حتمی کارروائی سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن واقعی وہاں موجود ہیں۔

اس مقصد کے لیے انہیں اس عمارت میں موجود اسامہ بن لادن کے کسی بچے کے ڈی این اے کی ضرورت تھی تاکہ اسے ان کی بہن کے نمونے سے میچ کیا جا سکے جن کا سنہ دو ہزار دس میں بوسٹن میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس طرح اس امر کی حتمی تصدیق ہو سکتی تھی کہ اسامہ کا خاندان وہاں موجود ہے۔

اس مہم کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطہ کیا جو خیبر ایجنسی میں صحت کے شعبے کے انچارج تھے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی مارچ میں یہ کہتے ہوئے ایبٹ آباد گئے کہ انہوں نے ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے مفت لگانے کے لیے فنڈ حاصل کیے ہیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نام نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کی زندگی ہمشہ متنازع رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ملازمت کے دوران کئی مرتبہ بدعنوانیوں کے الزامات میں معطل کیاگیا تھا۔ تاہم اثر و رسوخ کے باعث انہیں اپنے عہدے پر بحال کیا جاتا رہا۔

ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مُہم چلانے کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی باڑہ کے ایک نجی ہسپتال میں غیر ضروری آپریشن کرنے کے الزام میں معطل تھے اور اس دوران وہ فاٹا سیکٹریٹ میں بحیثیت ایک او ایس ڈی کام کررہے تھے۔

اسی بارے میں