لاہور: طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف جلوس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاہور میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

پاکسستان کے صوبہ پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے صوبائی ارکان اسمبلی نے لاہور کی مال روڈ پر جلوس نکالنے کی پابندی کے باجود بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد ارکان صوبائی اسمبلی نے ایوان وزیر اعلیٰ سے پنجاب اسبملی تک پیدل مارچ کی اور پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا دیا۔

واضح رہے کہ مال روڈ پر کسی بھی قسم کے جلسے اور جلوس نکالنے پر عدالتی احکامات کی روشنی میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت پابندی ہے۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبے میں حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی نے صدر آصف علی زرداری اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف نعرے لگائے۔ ارکان اسمبلی نے ’زرداری کا جو یار ہے، غدردار ہے غدردار ہے، ہائے بجلی ہائے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرو‘ کے نعرے بلند کیے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ بجلی کی طویل بندش کرکے پنجاب کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اس لیے وہ عوام کے ساتھ احتجاج میں شریک ہیں۔

ادھر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مال روڈ پر دفعہ ایک سو چوالیس کی کوئی خلاف وزری نہیں کی گئی بلکہ ارکان صوبائی اسمبلی، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پیدل ایوانِ وزیر اعلیْ سے پنجاب اسمبلی تک آئے ہیں۔

ادھر بجلی کی طویل بندش کے خلاًف صوبائی دارالحکومت میں جمعرات کو بھی احتجاج جاری رہا اور ریلیاں بھی نکالیں گئیں۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران بعض گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ واسا کے ایک ٹرک کو آگ بھی لگا دی گئی۔

مسلم لیگ نون نے بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں اکتیس مارچ کو لاہور میں احتجاج کیا جائے گا۔

اسی بارے میں