میمو کمیشن، معیاد میں چھ ہفتوں کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی سپریم کورٹ نے متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی میعاد میں مزید ڈیڑھ ماہ کی توسیع کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بینچ نے حسین حقانی کا بیان قلمبند کرنے سے متعلق اپنا پچھلا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

یاد رہے کہ اس فیصلے کے تحت عدالت نے انہیں اس شرط پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی کہ عدالت کے نوٹس پر وہ چار دن میں پیش ہونے کے پابند ہوں گے۔

حسین حقانی نے عدالت کو یہ درخواست دی تھی کہ انہیں بھی اس تنازعے کے خالق منصور اعجاز کی طرح ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے۔

سماعت کے دوران حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر پیش نہیں ہوئیں۔ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے عدالت کو بتایا کہ عاصمہ جہانگیر ملک سے باہر ہیں اور انہوں نے عدالت کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ 17 اپریل تک وطن واپس آجائیں گی اس لیے حسین حقانی کی درخواست 17 اپریل تک ملتوی کردی جائے۔

عدالت نے حسین حقانی کی درخواست غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی اور کہا کہ اگر حسین حقانی چاہیں تو اس سلسلے میں نئی درخواست دے سکتے ہیں۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے اس لیے اس کی مدت میں مزید توسیع کی جائے۔

تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کے عبدالقادر بلوچ کے وکیل نے کہا کہ کمیشن کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور حسین حقانی کے وکیل نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ان کے مؤکل اب پاکستان نہیں آئیں گے تو کمیشن کو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کا وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ کمیشن کو کام کرنا ہے تو وقت تو دینا پڑے گا۔

یاد رہے کہ عدالت نے تیس دسمبر کو متنازع میمو کی تحقیقات کے لیے یہ کمیشن تشکیل دیا تھا اور اسے ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم عدالت نے بعد میں تحقیقات مکمل نہ ہونے پر کمیشن کی میعاد میں دو ماہ کی توسیع کردی تھی اور اب تیسری بار اس کی میعاد بڑھائی گئی ہے۔

اسی بارے میں