شمالی وزیرستان ڈرون حملہ،چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل تین سو کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کم سے کم چار غیر ملکی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً چار بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے ایک اہم مرکز میران شاہ بازار میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جاسوس طیارے سے صرافہ بازار میں واقع دو منزلہ عمارت کو چار میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق عمارت کے بالائی منزل میں واقع ایک کمرے پر میزائل داغے گئے جس سے وہاں موجود کم سےکم چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے غیر ملکی بتائے جاتے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کا تعلق کس ملک سے تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے مرنے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو کسی نامعلوم پر منتقل کردیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل تین سو کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

امریکی اداروں کے مطابق دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، دو ہزار نو میں تریپن، دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور دو ہزار گیارہ میں سترسے زائد حملے ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے اور ان حملوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر بے گناہ افراد نشانہ بنتے ہیں۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جب بھی تلخی کا شکار ہوئے ہیں ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار رہا ہے تاہم یہ تعطل مستقل بندش کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

گزشتہ سال چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں سلالہ کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ڈرون حملوں کا سلسلہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے لیے تعطل کا شکار رہا تھا تاہم رواں برس جنوری کے دوسرے ہفتے سے یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے۔

اس سے پہلے دو ہزار گیارہ کے شروع میں بھی چوبیس روز تک ڈرون حملے بند رہے تھے جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تلخی میں اضافہ ہوا تھا تاہم بعد میں جاسوس طیاروں کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں