امریکہ سےتعلقات: اپوزیشن کا بحث میں حصہ سےگریز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی اور خارجہ پالیسی کی ازسرنو تشکیل کے لیے بلائے گئے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں جمعے کو حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے ارکان نے حزب اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ سفارشات سے انحراف کر رہی ہے۔

قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ حزب اختلاف کے دوسرے ارکان نے تنقید کا جواب دینے سے گریز کیا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار احمد رضا نے بتایا کہ مسلم لیگ قاف کے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ کمیٹی کی اتنی اچھی رپورٹ ہے اور اس پر سب کے دستخط بھی موجود ہیں لیکن حزب اختلاف والے بھاگ رہے ہیں۔

’پہلے تو امریکہ کا خوف تھا اب شاید خاکیوں کا خوف ہے۔ آپ بھاگیں نہ، پارلیمینٹ اپنی ذمہ داری نبھائے اور اس پر بحث کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ ٹوٹ چکی ہے اور ابھی اس کو سنبھلنے میں وقت لگے گا۔

سید مشاہد حسین نے کہا کہ پارلیمینٹ کے پاس یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ قومی سلامتی سے متعلق ایشوز پر غور کرے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ اس معاملے پر جمعرات کی شب اجلاس بلایا گیا جس میں ان کے بقول خاکی، مفتی، حکومت اور حزب اختلاف سب کے نمائندے موجود تھے۔

انہوں نے کہا لیکن جب تک یہ فیصلے پارلیمینٹ میں نہیں ہوں گے، آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔

انہوں نے ماضی میں بھی قومی سلامتی سے متعلق کئی بڑے فیصلے سویلین رہنماؤں نے کیے ہیں۔

’ذوالفقار علی بھٹو نے جوہری پروگرام شروع کیا، میاں نواز شریف نے اسے مکمل کیا۔ عراق کی جنگ کے دوران چوہدری شجاعت نے وہاں پاکستانی فوجیں بھیجنے سے انکار کیا۔ پاکستان کا میزائل پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ بینظیر بھٹو نے کیا اور وہ خود کوریا گئیں۔ تو ہمیں پہلے کی طرح جراّت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان، افغانستان سے نکلنے میں امریکہ کی مدد کرسکتا ہے اور اسے پاکستان کے راستے ہتھیاروں کی فراہمی کی اجازت نہیں دینی چاہیے ورنہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن دوسری قسم کی رسد کے لیے راستہ دینے کے لیے حکومت کو امریکہ سے بات کرنے دی جائے اور اسے بھی ڈرون حملے بند کرنے سے مشروط کیا جائے۔

بلوچستان پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ صوبے میں لوگوں کو لاپتہ کرنے اور ان کی لاشیں پھینکنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواہ قومی سلامتی کا کوئی بھی ادارہ اس میں ملوث ہو اور اگر کوئی ملزم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے اسامہ بن لادن کی بیواؤں اور بچوں کو بھی مسلمان ہونے اور انسانی یکجہتی کی بنیاد پر رہا کرنے اور ان کے وطن واپس بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے بھی حزبِ اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت عجیب لگتا ہے کہ جن دوستوں نے ان سفارشات پر خود ہی دستخط کیے اب وہ منحرف ہوگئے ہیں۔

’مجھے نہیں پتہ کہ کافر کے پیسوں سے جہاد کرنا جائز تھا یا نہیں لیکن کل تک جو لوگ امریکی پیسے پر جہاد کی حمایت کرتے رہے اب وہ کہتے ہیں کہ نیٹو کی رسد بحال ہوئی تو زور بازو سے روک لیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر جمہوریت کی بات چھوڑ کر میدان میں جاکر زور آزمائی کرنی چاہیے۔

سعید غنی نے کہا کہ کل تک جو جنرل مشرف اور جنرل ضیاء کی کابیناؤں کا حصہ تھے آج وہ پارلیمینٹ کے ذریعے خارجہ پالیسی کی تیاری کی مخالفت کررہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ہی آخوند زادہ چٹان نے کہا کہ یہ پوائنٹ سکورنگ ہے کہ آج وہ لوگ جلوس نکال رہے ہیں اور حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ نیٹو کی رسد بحال ہوئی تو طاقت سے روکیں گے جو کل تک بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومت میں تھے اور انہوں نے ایک دن کے لیے بھی نیٹو کی سپلائی نہیں روکی۔

’لوگوں کو یاد ہے کہ اس ملک میں امریکہ کو گھر گھر کس نے پہنچایا اور کس نے امریکہ کی خدمت گزاری کی۔‘

اجلاس میں جاری بحث میں جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے مولانا محمد خان شیرانی، پی پی پی کی سینیٹر سحر کامران اور عبدالمالک وزیر نے بھی خطاب کیا۔

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس پانچ اپریل تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں