’بلوچ رہنماء ملک واپس آکر مسئلےحل کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی جی ایف سی کے بقول فرنٹیئر کور بلوچستان نے دکی کول مائنز کے منصوبے کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لیے سیکورٹی فراہم کی ہے۔

انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل عبیداللہ خان نے ملک سے باہر بلوچ رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ وطن واپس آکر حکومت سے مذاکرات کر کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق آئی جی ایف سی بلوچستان نےسنیچر کو کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خان آف قلات سلیمان داؤد کے فرزند محمد احمد زئی نے بتایا ہے کہ ان کے والد وطن واپس آنا چاہتے ہیں اور ’اگر وہ وطن واپس آتے ہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ فرنٹیئر کور بلوچستان میں بھرتیوں کے لیے ڈھائی ہزار کے قریب نوجوانوں نے درخواستیں دی تھیں جن میں سے انہوں نے نوجوانوں کو عمر اور قد میں خصوصی ریلیف فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست غریب آدمی کامسئلہ نہیں ہے اور عام لوگوں کو امن اور روزگار چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم ڈیرہ بگٹی میں750طلباء و طالبات کو دو شفٹوں میں ایف سی کے سکول میں تعلیم فراہم کر رہے ہیں جبکہ 95فیصد سرکاری سکول بند پڑے ہیں۔‘

آئی جی ایف سی کے بقول فرنٹیئر کور بلوچستان نے دکی کول مائنز کے منصوبے کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لیے سیکورٹی فراہم کی ہے جس کے بعد وہاں سے روزانہ پندرہ ٹرک کوئلہ نکالا جاتا تھا اب تقریباً 100ٹرک روزانہ نکالے جارہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرحدوں سمیت مختلف علاقوں میں موجود تمام چیک پوسٹوں پر سیکورٹی حالات اور واقعات کے مطابق رکھی جاتی ہے اور شہر میں بھی حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملہ گشت کرتاہے اس لیے ہوسکتاہے کہ جن پوسٹوں پر واقعات یا حملے ہوئے ہیں وہاں پر سیکورٹی اہلکاروں کی کوتاہی بھی شامل ہو۔

ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے بلوچ رہمناؤں کو وطن واپس آکر حکومت سے مذاکرات کرکے عوام کے مسائل کو حل کرنے کےلیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

آئی جی ایف سی کے بیان پرلندن سے تبصرہ کرتے ہوئے خان آف قلات میر سلیمان داؤد بلوچ نےاس تاثر کو رد کیا کہ ان کے بیٹے نے 23مارچ کی سرکاری تقریبات میں شرکت کرکے ان کی نمائندگی کی ہے یا یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ ’اسے میری حمایت حاصل ہے۔‘

انہوں نے کہا ’میری نہ تو کوئی نمائندگی کرتا ہے نہ ہی میرا کوئی ترجمان ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے سے میرا پچھلے دو سال سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وہ اپنے قول وفعل کا خود ذمہ دار ہے۔ ویسے بھی وہ سرکاری نواب میر عالی بگٹی اور ان کے ’فیملی سرپرست‘ کی نگرانی میں ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں سو ان کے کہنے پر سب کچھ کر رہا ہے۔‘

آئی جی ایف بلوچستان کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں خان آف قلات نے کہا ’میرا اس پر کوئی تبصرہ نہیں۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ ’بلی کے خواب میں چچھڑے‘ ہیں۔

اسی بارے میں