کراچی:لیاری میں آپریشن جاری، آٹھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لی مارکیٹ، آٹھ چوک اور نیا آباد میں کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا

کراچی کے علاقے لیاری میں پولیس آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا ہے اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ افراد ہلاک اور چوبیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ نامعلوم افراد نے پولیس پر دستی بموں سے حملے کیے ہیں۔

لیاری میں اتوار کو مبینہ پولیس مقابلے میں ثاقب بلوچ نامی شخص ہلاک ہوگیا تھا جو پولیس کے مطابق کالعدم امن کمیٹی کے رہنما عذیر بلوچ کا ساتھی تھا۔ اس ہلاکت کے بعد سے لیاری میں مشتعل افراد کا احتجاج جاری ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کو بھی دن بھر پولیس اور مسلح افراد میں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا اور اس دوران آٹھ چوک پر ایک شخص فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا۔ اسی علاقے میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما حسن سومرو بھی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے ہیں اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

پولیس سرجن کے مطابق اس کے علاوہ تین بچوں سمیت چھ افراد لیاری کے ہی مختلف علاقوں لی مارکیٹ، کمہار واڑہ، آٹھ چوک، لیاری ٹاؤن آفس میں مارے گئے۔

مسلسل فائرنگ کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے اور لی مارکیٹ، آٹھ چوک اور نیا آباد میں کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔

اس دوران آٹھ چوک اور لیاری ٹاؤن آفس کے علاقوں میں نامعلوم افراد نے پولیس پر دستی بم بھی پھینکے تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

لیاری میں فائرنگ کے دوران زخمی ہونے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس نے نشانہ بنایا ہے۔

لیاری جنرل ہپستال میں زیر علاج محمود بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گلی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک پولیس کی گولی کا نشانہ بن گئے اور ایک گولی کولہے میں آ کر لگی۔ ان کے مطابق علاقے میں ایمبولینس تو نہیں آ رہی تھیں اور علاقے والوں نے موٹر سائیکل پر ہپستال پہنچایا ہے۔

چودہ سالہ عبداللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ چوک پر اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے تو ایک گولی ان کی ران میں آ کر لگی انہیں رکشہ میں ہپستال پہنچایا گیا۔

ساجد بلوچ اپنے چار سالہ بھائی کو لانے کے لیے گھر سے نکلے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ یہ سوچ کر باہر نکلے تھے کہ بچہ کہیں فائرنگ کی زد میں نہ آجائے مگر گلی میں وہ خود گولی کی زد میں آگئے۔ ان کے مطابق بکتر بند سے ہونے والی فائرنگ میں انہیں ایک گولی پیٹ اور دوسری ہاتھ میں لگی ہے۔

پیر کو ہی کراچی میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کراچی میں امن امان کے بارے میں اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں وفاقی اور صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی سندھ پولیس، ڈی جی رینجرز اور ڈی جی آئی بی نے شرکت کی۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ تاوان کے لیے شہر کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے سیاسی قوت، موثر اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے اور سزا کی ہدایت کی۔

صدر زرداری نے فرقہ وارانہ دہشت گردی، انتہا پسندی، زمین پر قبضوں، اسٹریٹ کرائم، ٹارگٹ کلنگز، سیاسی مخالفت اور ملک کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کے اسباب اور ان کے سدباب کے لیے تحقیق کرنے کی تجویز پیش کی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسلسل فائرنگ کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے

ادھر متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ شہر میں لگے ہوئے اپنے پارٹی جھنڈے اتار لیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان واسع جلیل کا کہنا ہے کہ متحدہ شہر میں امن کے ہر اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے۔

اتوار کو کراچی میں امن و امان کے بارے میں اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے تمام سیاسی جماعتوں سے پرچم اتارنے کی اپیل کی تھی اور انہوں نے ایم کیو ایم کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

وفاقی وزیر کا لیاری میں جاری آپریشن اور ہلاکتوں کے بارے میں کہنا تھا کہ ’جب چھتوں پر چڑھ کر پولیس پر فائرنگ کی جائےگی تو پولیس جواب میں پھول تو نچھاور نہیں کرےگی‘۔

پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما حبیب جان بلوچ کا کہنا ہے کہ لیاری میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اپنے اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے یہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیر کو پولیس کی فائرنگ میں پیپلز پارٹی کے تین کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔ حبیب بلوچ نے اتوار کو ہلاک ہونے والے ثاقب بلوچ کو بھی پیپلز پارٹی کا کارکن قرار قرار دیا۔

اسی بارے میں