مہمند ایجنسی، پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شدت پسند اس سے پہلے بھی سرحد پار سے سکیورٹی فورسز کی سرحدی چوکیوں پر حملے کر چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحد سے ہونے والے شدت پسندوں کے ایک حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دس سے پندرہ شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

دریں اثناء تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک کے ترجمان مکرم خراسانی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ حملہ پاکستانی علاقے سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار کو اغواء کرلیا گیا ہے جبکہ لڑائی میں ان کا ایک جنگجو بھی مارا گیا ہے۔

پشاور میں فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو آپر سب ڈویژن کے علاقے بیزئی میں تقریباً ساٹھ کے قریب مسلح شدت پسندوں نے افغان سرزمین سے داخل ہو کر اولئی کے مقام پر قائم پاکستانی سکیورٹی فورسز کی سرحدی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق حملے کے بعد پانچ سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہو گئے تھے جن میں سے چار اہلکار واپس آ گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق جوابی حملے میں دس سے پندرہ شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

دریں اثناء تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تحریک کے ترجمان مکرم خراسانی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ حملہ پاکستانی علاقے سے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار کو اغواء کرلیا گیا ہے جبکہ لڑائی میں ان کا ایک جنگجو بھی مارا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں اس سے پہلے بھی سرحد پار سے متعدد بار حملے ہو چکے ہیں جس میں کئی سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کو تقسیم کرنے والی سرحد ’ڈورینڈ لائن‘ پر امن و امان برقرار رکھنا دونوں ممالک کے لیے ہمیشہ سے ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے۔

تقریباً ایک سال قبل مہمند، چترال اور دیر کے علاقوں میں افغان سرحد سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر شدت پسندوں کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے تھے جس میں فوج کے مطابق سو سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان فوج نے الزام لگایا تھا کہ ان عسکریت پسندوں کو افغان حکومت کی حمایت حاصل ہے تاہم کابل کی حکومت ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں