’شدت کے ساتھ وطن واپسی کا انتظار ہے‘

Image caption امل کا اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا:ذکریا

اسامہ بن لادن کے برادرِ نسبتی کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ کے اہلخانہ پاکستانی عدالت کی جانب سے ڈیڑھ ماہ قید اور جرمانے کے فیصلے پر مطمئن ہیں اور وہ قید کے خاتمے پر وطن واپسی کے شدت سے منتظر ہیں۔

اسلام آباد میں عدالت نے اسامہ کی تینوں بیواؤں اور دو بالغ بیٹیوں کو ملک میں غیر قانونی قیام کے جرم میں پینتالیس دن قید اور دس ہزار روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

اس سزا کا آغاز تین مارچ سے تصور کیا جائے گا اور یوں اسامہ کے اہلِخانہ کو مزید دو ہفتے قید کاٹنا ہوگی جس کے بعد انہیں ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں اُسامہ کی یمنی بیوہ کے بھائی ذکریا احمد نے بتایا کہ اُسامہ بن لادن کے اہلخانہ عدالت کے فیصلے سے نا صرف مطمئن ہیں بلکہ خوش بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج جب یہ فیصلہ سامنے آیا تو بچوں اور بیواؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ذکریا احمد نے کہا ’پہلے خفیہ اداروں کی حراست میں بغیر کسی جرم کے اور بعد میں باقاعدہ پولیس کی حراست میں اتنا عرصہ سزا کاٹنے کے بعد اسامہ کے خاندان والے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اب بس خاندان کے تمام لوگ شدت کے ساتھ اپنے اپنے ملک لوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں‘۔ ذکریا احمد نے بتایا کہ سب جیل میں منتقل ہونے کے بعد امل سمیت تمام بچوں اور بیواؤں کی صحت میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’امل اور ان کے بچوں کا دنیا سے رابطہ بہت عرصے سے منقطع تھا اس لیے انہیں عام زندگی کی طرف واپس آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رہائی کے بعد اب میرے لیے دوسرا بڑا چیلنج بچوں کی اچھی تعلیم کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عام زندگی کی طرف واپس لانا رہ گیا ہے‘۔

ذکریا احمد نے دعوٰی کیا کہ ان کی بہن کا ’اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا اسی لیے انہیں صرف پاکستان میں غیر قانونی داخلے اور قیام کے جرم میں سزا دی گئی ہے‘۔

ادھر القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے وکیل عاطف علی خان نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے خاندان نے ایبٹ آباد کے علاوہ کراچی اور سوات میں بھی سکونت اختیار کی تھی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے عاطف علی خان نے اُسامہ کے اہلخانہ کی جانب سے کراچی اور سوات میں قیام کی خبروں کی تردید کرتےہوئے کہا کہ ’ہم نہیں جانتے اس قسم کی تحقیقاتی رپورٹ کہاں سے منظر عام پر آئی ہے اس لیے اُسامہ کے اہل خانہ اسے مسترد کرتے ہیں‘۔

اس بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں ہی صداقت ہو گی جس کا سب کو انتظار ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کہ اسامہ کے خاندان کی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نرم سزا دی گئی ہے۔

اہل خانہ کے وکیل عاطف علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق ’غیر ملکیوں کو اس سلسلے میں دس برس کی قید کی سزا ہو سکتی ہے تاہم قانون کا مقصد ہے ایسے مجرموں کو جلد از جلد ملک بدر کرنا ہے اس لیے سزا محض اس لیے دی جاتی ہے تاکہ آئندہ کوئی ایسی غلطی نہ دہرائے‘۔

اسی بارے میں