جرائم میں ملوث وزرا کے خلاف کارروائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سپریم کورٹ نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صوبے میں اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں سےمتعلق پیش کی جانے والی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اغواء اور دیگر جرائم میں ملوث وزرا کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس طارق پرویز اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ نے کوئٹہ میں ایک آئینی پٹیشن کی سماعت شروع کی۔

یہ آئینی درخواست بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے گذشتہ سال سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

منگل کو کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی سپریم کورٹ کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ہائی کورٹ امان اللہ کنرانی نے صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے میں قیام امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ دو ہزار دس کے مقابلے میں سال دو ہزارگیارہ میں اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے جبکہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ چند دن قبل بلوچستان کے وزیر داخلہ نے ٹی وی پر واضع طور پر کہا تھا کہ اغوا برائے تاوان اور جرائم کے دیگر واقعات میں بعض وزراء بھی ملوث ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان راؤ امین سے پوچھا کہ اب تک انہوں نے کسی وزیر کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے اور مذکورہ بیان کے بارے میں صوبائی وزیر داخلہ سے رابطہ کیا ہے۔

جس پرآئی جی پولیس نے نفی میں جواب دیا توچیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی پولیس کو علم نہیں ہے کہ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں آئے روز اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ کے کتنے واقعات ہوتے ہیں اور ابھی تک ان واقعات میں ملوث کتنے ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ مذہبی دہشت گردی میں تیرہ افراد کو سزائیں ہوئی ہیں جن میں تین گرفتار بھی ہیں۔

اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک ظہور حسین شاہوانی نے کہا کہ گزشتہ ماہ کوئٹہ سے میر حمزہ شاہوانی ایڈووکیٹ اغوا ہوئے اور سولہ دن بعد وہ وزیرستان سے بازیاب ہوئے۔

جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ پولیس، لیویز، فرنٹیئرر کور اور دیگر اداروں کی موجودگی میں کس طرح اغوا کار لوگوں کو کوئٹہ سے اٹھا کر وزیرستان پہنچا دیتے ہیں۔

Image caption گذشتہ دو سالوں کے دوران دو سو چار افراد کی لاشیں ملی ہیں: ایڈووکیٹ جنرل

چیف جسٹس نے بلوچستان میں لاپتہ افراد اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور پوچھا کہ اب تک کتنے لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران دو سو چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

جس پرعدالت نے پوچھا کہ کیا حکومت نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے معلوم کیا کہ ان کے رشتہ داروں کو کس نے قتل کیا اور ان کا جرم کیا تھا۔ عدالت نے پوچھا کہ اگریہ لوگ کسی جرم میں ملوث تھے توانہیں عدالت کے سامنے کیوں نہیں پیش کیا۔

اس موقع پر صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دن رات کام کر رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ افراد کی لاشیں ملنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اسلحے کے ساتھ گھوم رہی ہے لیکن پولیس کو ان غیرقانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

اس موقع ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ماضی میں کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ناکے لگے ہوئے تھے جس کے ذریعے جرائم پیشہ افراد پر نظر رکھنے میں آسانی تھی۔

اس پر جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ لندن شہر میں کہیں کوئی ناکہ نہیں لگا ہے اور وہاں امن و امان سب سے بہتر ہے اس دوران جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ وہاں تو اڑتی ہوئی چڑیا بھی کمیرے میں آ جاتی ہے۔

جس کے بعد چیف جسٹس نے صوبائی حکومت کوہدایت کی انتیس مارچ کو اسپنی روڈ کوئٹہ، مستونگ میں این جی او کی گاڑی پر حملے اور لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے سے متعلق رپورٹ ایک دو دن میں تیار کر کے عدالت میں پیش کرےے۔

عدالت نے کراچی میں لیاری کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے بلا امتیاز آپریشن کیا جائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ پر عمل نہیں کیا جس کے باعث آج کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں۔

اسی بارے میں