’پاکستانی عدلیہ کو آزاد دیکھ کر خوشی ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مصرکے چیف جسٹس حسام الدین الغرینی نے دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اپنی ملاقات کو ایک عظیم سعادت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ کو آزاد دیکھ کر انہیں خوشی ہوئی ہے۔

مصری چیف جسٹس، ڈپٹی چیف جسٹس کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر ہیں اور مصر میں آئین کی تشکیل نو کے سلسلے میں وہ پاکستان کے عدالتی نظام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق اور اسلام آباد میں مصر کے سفیر بھی مصری چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات میں موجود رہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق مصری چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں کیا ہے جب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف پاکستان کی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ مصر دنیا کی ایک امیر اور قدیم تہذیب کا گھر ہے۔ جبکہ جامعہ الاظہر اسلامی تعلیمات اور تحقیق کا عظیم مرکز ہے جہاں سے مسلمان ممالک کے محققین استفادہ کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مصر میں کامیاب پارلیمانی انتخابات کے بعد عوام کی خواہشات کے مطابق نیا آئین تشکیل دینے کے اقدامات سے منتخب نمائندوں کی سیاسی بصیرت کی عکاسی ہوتی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قصاص و دیت، آزادانہ معلومات، قانون شہادت اور دیگر کئی قوانین کا نفاذ وفاقی شرعی عدالت، شرعی اپیلٹ کورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

مصر کے چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے نئے بننے والے آئین میں عدلیہ آزاد ہوگی کیونکہ یہ آئین عوام کے منتخب نمائندے بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سے ملیں گے اور دونوں ممالک کے عدالتی نظام کے تقابلی جائزے کے بعد واپسی پر اپنی سفارشات مرتب کریں گے۔

اسی بارے میں