گلگت: بم حملے میں پانچ ہلاک، کرفیو نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مظاہرے کے دوران فائرنگ سے حالات کشیدہ ہیں

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے شہرگلگت میں ایک مظاہرے کے دوران ہونے والی فائرنگ اور دستی بم کے حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ انتالیس زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اور شہر میں اب کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

گلگت پولیس کے اہلکار شہادت اللہ نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کے کارکُن اپنے رہنما مولانا عطاء اللہ کی رہائی کے سلسلے میں مظاہرہ کررہے تھے۔

ان کے مطابق اسی مظاہرے کے دوران اتحادی چوک کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر دستی بموں سے حملہ کیا جس سے پانچ افرد ہلاک اور بیس سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ شروع ہو گئی جس میں مزید بیس لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور شہر میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں نےگشت شروع کیا ہے جبکہ لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کئی گھنٹوں تک ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکارسڑکوں سے غائب تھے اور مسلح افراد شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔

ان کے مطابق اس واقعے کے بعد شہر میں نظامِ زندگی بری طرح مفلوج ہے۔ مارکٹیں، دوکانیں اور تمام کاروبار بند ہونے کے بعد لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز مولانا عطاء اللہ کو پولیس تھانے کے قریب فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا اور فائرنگ کے اس واقعے میں ایک درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں