حافظ سعیدگرفتاری پر انعام کی خبر’ غیر مصدقہ‘: وزیر داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت نے حافظ سعید کی تلاش کے لیے امریکی حکومت کی طرف انعام کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے

پاکستان کے وزير داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ انہیں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعيد کی تلاش میں مدد دینے پر امریکی کی جانب سے ایک کروڑ ڈالر کے انعام سے متعلق سرکاری طور پر نہیں بتایاگیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزير داخلہ نے کہا کہ انہوں نےحافظ سعيد کي گرفتاري پر انعام کے حوالے سے خبر کي تصديق کے ليے وزارت خارجہ سے رابطہ کيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حافظ سعيد کي گرفتاري کے حوالے سے خبر سچ ہے تو پھر ’ان‘ سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد کیا ہے۔

وزير داخلہ نے خبر کي تصديق ہونے سے پہلے اس پر مزيد بات چيت سے انکار کيا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کر دیا ہے۔

ادھر بھارت نے حافظ سعید کی تلاش کے لیے امریکی حکومت کی طرف انعام کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ بھارتی اخبارات کے مطابق سیاسی امور کے لیے امریکہ کی نائب وزیرِ خارجہ وینڈی شرمن نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران حکام کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

امریکی حکومت کے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق حافظ سعید کی گرفتاری یا ان کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات کی فراہمی پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔

جماعت الدعوۃ کے امیر: تصاویر میں

ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ حافظ سعید جماعت الدعوۃ اور اس کے عسکری شعبے لشکرِ طیبہ کے بانی ہیں اور ان پر دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں سمیت دہشتگردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں بی بی سی اردو کو ایک خصوصی انٹرویو میں ممبئی حملوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر حافظ سعید نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جماعت الدعوۃ کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے اور عدالت یہ فیصلہ دے چکی ہے کوئی پاکستانی تنظیم اس میں ملوث نہیں۔

دس ملین امریکی ڈالر انعام مقرر ہونے کے بعد حافظ سعید امریکہ کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں دوسرے درجے پر آ گئے ہیں۔

ان کے علاوہ جن افراد کی گرفتاری میں مدد پر اتنا ہی انعام مقرر ہے ان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر، ایران میں القاعدہ کے مبینہ رہنما یٰسین السوری اور عراق میں القاعدہ کے رہنما ابودعا شامل ہیں۔

امریکی حکام نے حافظ سعید کے علاوہ ان کے ساتھی حافظ عبدالرحمان مکی کی تلاش میں مدد دینے پر بھی بیس لاکھ ڈالر تک انعام مقرر کیا ہے۔

جماعت الدعوۃ نے حافظ سعید اور عبدالرحمان مکی کی تلاش میں مدد دینے پر نقد انعام مقرر کرنے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اسے امریکہ کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک اور حملہ قرار دیا ہے۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے بی بی سی کے حفیظ چاچڑ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حافظ محمد سعید اور عبدالرحمان مکی پاکستان کے قومی اور دینی رہنماء ہیں اور وہ غاروں میں روپوش نہیں بلکہ اکثر پاکستان میں ان کے پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

ممبئی میں نومبر دو ہزار آٹھ میں ہونے والے حملوں پر بات کرتے ہوئے یحییٰ مجاہد نے کہا کہ جب ممبئی پر حملہ ہوا تھا تو اس واقعے کے فوراً بعد حافظ محمد سعید نے ایک پریس کانفرنس میں اس کی الزام تردید کی تھی اور کہا تھا ان کا حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملوں کے بعد حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی نظربندی کے دوران لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی ممبئی کا واقعہ زیر بحث رہا تھا لیکن بعد میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی عدلیہ کا احترام کرنا چاہیے اور ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہو اور امریکہ کے خلاف مزید نفرت ابھرے۔

جماعت الدعوۃ نے اس سلسلے میں ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں اس اقدام کی وجہ نیٹو سپلائی کی بحالی کی کوششوں اور ڈرون حملوں کے خلاف جدوجہد سے امریکی اہلکاروں کی بوکھلاہٹ قرار دی گئی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان رہنماؤں کی جانب سے قوم کو امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادیوں کی سازشوں سے آگاہ کیا جانا امریکہ اور بھارت کے لیے شدید مایوسی کی وجہ ہے اور امریکہ بھارتی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ہ ’اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں