لیاری:ایف سی کی تعیناتی کے بعد حالات بہتر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لی مارکیٹ، آٹھ چوک اور نیا آباد میں کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا تھا

کراچی کے علاقے لیاری میں دو دن جاری رہنے والے پولیس آپریشن اور کشیدگی کے بعد منگل کو صورتحال معمول پر آرہی ہے۔

لیاری میں اتوار کو مبینہ پولیس مقابلے میں ثاقب بلوچ نامی شخص کی ہلاکت کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج شروع کیا تھا۔

پیر کو علاقے میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما حسن سومرو سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد صورتحال پولیس کے قابو سے باہر ہوگئی تھی، جس کے بعد ایف سی کو طلب کیا گیا تھا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کی شب ایف سی کی علاقے میں آمد کے بعد حالات میں بہتری دیکھی گئی اور منگل کی صبح لی مارکیٹ اور آس پاس کے علاقوں میں میگا فون اور مساجد سے کاروبار کھولنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ لیاری میں دو روز کے آپریشن میں پولیس ایک بھی مطلوبہ شخص گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس دوران مسلسل فائرنگ کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اور لی مارکیٹ، آٹھ چوک اور نیا آباد میں کاروبارِ زندگی معطل تھا۔

اس دوران آٹھ چوک اور لیاری ٹاؤن آفس کے علاقوں میں نامعلوم افراد نے پولیس پر دستی بم بھی پھینکے تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پیر کو ہی کراچی میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کراچی میں امن و امان کے بارے میں اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں وفاقی اور صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی سندھ پولیس، ڈی جی رینجرز اور ڈی جی آئی بی نے شرکت کی۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ تاوان کے لیے شہر کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے سیاسی قوت، موثر اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے اور سزا کی ہدایت کی۔

صدر زرداری نے فرقہ وارانہ دہشت گردی، انتہا پسندی، زمین پر قبضوں، اسٹریٹ کرائم، ٹارگٹ کلنگز، سیاسی مخالفت اور ملک کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کے اسباب اور ان کے سدباب کے لیے تحقیق کرنے کی تجویز پیش کی۔

اسی بارے میں