’حکومت عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption مسلم لیگ نون نے کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے

پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے سربراہ اور حکمران پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے اعتراف کیا ہے کہ پارلیمان سے منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔

منگل کو کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں رضا ربانی نے اس بات کا اعتراف کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ڈرون حملے روکنے سمیت مختلف معاملات کے بارے میں پارلیمان کی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کا جائزہ بھی اپنی سفارشات کے ساتھ پیش کریں گے۔

منگل کو دوسرے روز بھی مسلم لیگ نون نے کمیٹی کی کارروائی کا بائیکاٹ برقرار رکھا۔

مسلم لیگ نون نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے ایک بار پھر مسلم لیگ نون سے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حکومت کی نہیں بلکہ پارلیمان کی کمیٹی ہے۔

انہوں نے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ایسی خبروں کو غلط قرار دیا جن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اپنی پہلے سے منظور کردہ چالیس سفارشات کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے بقول کمیٹی اب صرف ان اختلافی نکات پر نظر ثانی کر رہی ہے جن کے بارے میں مختلف جماعتوں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق سرکاری طور پر تو یہ نہیں بتایا گیا کہ کمیٹی کب تک اپنا کام مکمل کرے گی لیکن بعض اراکین نے توقع ظاہر کی ہے کہ پانچ اپریل تک کمیٹی اختلافی نکات پر اتفاق رائے حاصل کر لے گی۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ایک رکن اور مسلم لیگ قاف کے رہنما سید مشاہد حسین نے منگل کو تین غیر ملکی اخبارات میں شائع ہونے والے آرٹیکل اراکین میں تقسیم کیے۔ جس میں ’ڈرون کے بارے میں دس چیزیں جو آپ کے علم میں نہیں‘ کے عنوان سے فارن پالیسی نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا مضمون بھی شامل ہے۔

اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مسلح ڈرون کا پہلا شکار نومبر سنہ دو ہزار ایک میں افغانستان میں القاعدہ کے سرکردہ رہنما محمد عاطف بنے۔

مضمون میں بتایا گیا ہے امریکہ اپنی سرحدوں کی نگرانی سمیت مختلف مقاصد کے لیے مختلف نوعیت کے ڈرون استعمال کرتا ہے۔ تاحال اسی کے قریب ڈرون حادثات میں تباہ ہوئے ہیں اور ایک ڈرون کی مالیت تقریباً دس لاکھ ڈالر ہے۔

جبکہ نیویارکر ڈاٹ کام میں سٹیوو کول کے مضمون ’پاکستان کیا چاہتا ہے‘ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دس سالہ جنگ کے بارے میں پاکستانی فوج کے مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک خفیہ دستاویز تیار کی گئی ہے جو نیٹو اور امریکہ کو بھی فراہم کی گئی ہے۔

کرسچن سائنس مانیٹر میں شائع ہونے والا مضمون ’ایران نے امریکی ڈرون ہائی جیک کر لیا‘ بھی مشاہد حسین نے تقسیم کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی فضائیہ نے امریکی ڈرون کا اپنے مرکز سے رابطہ منقطع کر کے اُسے ایران میں اتار لیا۔

واضح رہے کہ میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنی چالیس سفارشات پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی تھیں جس پر پہلے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا اور بعد میں حکمران جماعت کے اراکین نے بھی اس پر سخت تنقید کی۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ خفیہ نہیں رکھنی چاہیے تھی اور کمیٹی نے اپنے دائرہ کار سے باہر جا کر امریکہ کے بجائے بھارت اور دیگر ممالک کے بارے میں بھی سفارشات تیار کیں اور اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔

انہوں نے میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کمیٹی کی کارروائی خفیہ نہ رکھی جاتی تو میڈیا اور سول سوسائٹی کی تجاویز بھی اس میں شامل کی جا سکتی تھیں۔

اسی بارے میں