رینٹل پاور:تین سابق وزراء سمیت انیس کے نام ای سی ایل پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے نیب کو کارروائی کی ہدایت کی تھی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر تین سابق وزراء سمیت انیس افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاملے میں ہونے والی بےضابطگیوں میں ان افراد کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے امکانات کے بعد یہ حکم جاری کیا تھا۔

اے پی پی کے مطابق قومی احتساب بیورو یا نیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ کی تیس تاریخ کو جاری کیے گئے حکم پر عمل کرتے ہوئے پانی و بجلی کے دو سابق وفاقی وزراء لیاقت جتوئی اور راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیے ہیں۔

ان کے علاوہ جن افراد کے نام اس فہرست میں شامل ہوئے ہیں ان میں پانی و بجلی کے سابق سیکرٹریز شاہد رفیع، محمد اسماعیل قریشی اور اشفاق محمود، سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق، نپیرا کے سابق چیئرمین خالد سعید اور پیپکو کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹرز طاہر بشارت چیمہ اور منور بصیر احمد اور اسی ادارے کے سابق سی ای او محمد عارف سلیم، فضل احمد خان اور چوہدری محمد انور بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نو رینٹل پاور پلانٹس کے حکومت سے معاہدے غیر قانونی ہیں اور ان کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

ان نو بجلی گھروں میں ٹیکنو فیصل آباد، پی پی آر سندھ، ٹیکنو سیالکوٹ، کرکے کرادنز، ینگ جین فیصل آباد، گلف گجرانوالہ، ریشما لاہور، والٹرز نوڈیرو ثانی اور نوڈیرو دوئم شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نو رینٹل پاور پلانٹس کے حکومت سے معاہدے غیر قانونی ہیں:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تمام بجلی گھروں کے معاہدے غیر شفاف، غیرقانونی اور شروع دن سے ہی غلط تھے۔ فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں وزارت خزانہ، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، پبلک سیکٹرز پاور جنریشن کمپنیز نے کرائے کے بجلی گھروں کو سات سے چودہ فیصد پیشگی رقم کی ادائیگی کرکے اور زیادہ قیمت پر بجلی خرید کر عوام کو اربوں کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

واضح رہے کہ ابتداء میں سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ تاہم فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔

فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں نجی پاور کمپنیوں سے ہونے والے ان معاہدوں میں پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں