دوست محمد کھوسہ مستعفی ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خود کو عدالت سے بری کروانے تک وزیر کے عہدے پر نہیں رہوں گا: دوست کھوسہ

پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے اپنے خلاف اغواء کا مقدمہ درج ہونے کے بعد صوبائی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے ان کا یہ استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔

دوست محمد کھوسہ پر اغواء کا یہ مقدمہ ان کی سابقہ بیوی سپنا خان کے والد کی جانب سے چند روز قبل درج کروایا گیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے ترجمان سینیٹر پریز رشید نے دوست محمد کھوسہ کے استعفے اور اس کے منظور کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دوست محمد کھوسہ نے اس لیے استعفی دیا ہے کیونکہ ان کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ دوست محمد کھوسہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں تاہم انہوں نے جو استعفی دیا اس پر یہ لکھا تھا کہ وہ خود کو عدالت سے بری کروانے تک وزیر کے عہدے پر نہیں رہیں گے۔

پرویز رشید کے مطابق دوست محمد کھوسہ پر ان کی جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے استعفی دینے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

یاد رہے کہ دوست محمد کھوسہ پر لاہور کے ریس کورس پولیس سٹیشن میں 30 مارچ کو دفعہ 364 کے تحت اغواء کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا جس میں درخواست گزار مثل خان نے الزام لگایا کہ دوست محمد کھوسہ نے اپنی بیوی اور ان کی بیٹی سپنا خان کو اغواء کیا ہے۔

مثل خان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ دوست محمد کھوسہ نے سپنا خان کو قتل کے ارادے سے اغواء کیا ہے۔ دوسری جانب دوست محمد کھوسہ نے بارہا میڈیا پر یہ کہا کہ سپنا خان کو وہ طلاق دے چکے ہیں اور ان کا سپنا خان کی گمشدگی سے کوئی تعلق نہیں۔

دوست محمد کھوسہ نے اسی روز یعنی 30 مارچ کو ہی مثل خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس میں الزام لگایا تھا کہ مثل خان ان کی سابقہ بیوی کے والد نہیں ہیں اور ان کو ایک سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے مثل خان نے اس سے پہلے لاہور کی مقامی عدالت میں سردار دوست محمد کھوسہ کے خلاف درخواست دی تھا کہ ان کی بیٹی سپنا خان بائیس جون دوہزار گیارہ کو اپنے شوہر دوست محمد کھوسہ کی جی او آر میں واقع رہائش گاہ پر گئی تھی اور اس دن سے ان کی بیٹی لاپتہ ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ نے اُن کی بیٹی کو اغوا کیا ہے اس لیے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت کے روبرو سپنا خان کے بھائی فیصل نے بیان نہ حلفی دیا تھا کہ وہ خود اپنی بہن سپنا خان کو ان کے شوہر دوست محمد کھوسہ کے رہائش گاہ پر چھوڑ کر آیا تھا۔

دوست محمد کھوسہ نے اس سے پہلے عدالت کے دوبرہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی سپنا خان نامی اداکارہ سے شادی ہوئی تھی لیکن ان کی طلاق ہو چکی ہے اور اب ان کے علم میں نہیں کہ سپنا خان کہاں ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی پنجاب کی رکن اسمبلی شمائلہ رانا نے کریڈٹ کارڈ کی چوری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیا تھا لیکن بعد ازاں انہوں نے متعدد بار مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت پر یہ الزام لگایا کہ وہ بے قصور تھیں لیکن ان کی پارٹی قیادت نے ان سے زبردستی استعفی لیا تھا

اسی بارے میں