گلگت:چلاس میں ہلاکتوں کے بعد مزید کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے شہرگلگت میں بدھ کو دوسرے روز بھی کرفیوں بدستور نافذ ہے۔

حکام کے مطابق منگل کی رات کو گلگت کے قریبی علاقے چلاس میں نو افراد کی ہلاکت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

منگل کو ایک مظاہرے پر دستی بم کے حملے کے بعد شہر میں فائرنگ کے واقعات میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ انتالیس زخمی ہو گئے تھے۔

گلگت بلتستان کے ایک دوسرے شہر چلاس میں بھی منگل کی شام ایک مُسافر گاڑی پر حملے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گلگت میں ایک پولیس اہلکار جمعہ الدین نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ شہر میں بدھ کو دوسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر میں مُسلح فوج کے علاوہ رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اندرون شہر اور شہر میں داخل ہونے راستوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مورچے بنا رکھے ہیں اور جگہ جگہ ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کی شام گلگت سے کوئی ایک سو پچاس کلومیٹر دور جنوب کی جانب ضلع چلاس میں راولپنڈی سے آنے والی مسافر گاڑی پر حملے کے بعد حالت مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے جن کا تعلق اہل تشیع سے بتایا جاتا ہے۔

اہلکار کے مطابق گلگت سے ملنے والی تمام راستے منگل سے بدستور بند ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں عام شہریوں کے مُشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز گلگت شہر میں تنظیم اہلسنت والجماعت کے کارکُن اپنے رہنما مولانا عطاء اللہ کی رہائی کے سلسلے میں مظاہرہ کررہے تھےکہ دوران اتحادی چوک کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر دستی بموں سے حملہ کیا تھا جس سے پانچ افرد ہلاک اور بیس سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ شروع ہو گئی تھی جس میں مزید بیس لوگ زخمی ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس واقعے کے بعد شہر میں نظامِ زندگی بری طرح مفلوج ہے۔

مارکٹیں، دوکانیں اور تمام کاروبار بند ہونے کے بعد لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں