پاکستانی، جن پر امریکی انعام تھا؟

کیا کبھی مشتبہ پاکستانیوں پر انعام دیا گيا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت نے حافظ سعید کی تلاش کے لیے امریکی حکومت کی طرف انعام کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے

جی ہاں ایسی ایک نئی نہیں کئي دستاویزی مثالیں موجود ہیں جہاں امریکہ نے مشبتہ مطلوب پاکستانی شہریوں سے متعلق ایسی معلومات دینے پر انعامات دیے ہیں جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا جا سکا۔

پاکستانی شہری میر اکمل کانسی نے پانچ جنوری سنہ انیس ترانوے کو امریکہ میں سی آئي اے کے دفتر کے سامنے دو افراد کو قتل اور تین کو زخمی کردیا تھا جن کی گرفتاری کے لیے امریکہ انعام دیا تھا۔

حملے کے فوراً بعد کانسی امریکہ سے فرار ہو کر پاکستان آگئے تھے جنہیں سنہ انیس سو ستانوے میں ڈیرہ غازی خان سے گرفتار کیا گيا تھا۔

رمزی یوسف جو نیو یارک کے ٹریڈ سینٹر پر حملے کے لیے جیل میں ہیں، ان کے متعلق معلومات کے لیے بھی امریکہ نے انعام رکھا تھا۔

انہوں نے سنہ انیس سو ترانوے میں نیو یارک کے ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے متعلق معلومات پاکستان کے امریکی سفارت خانے کو دی گئی تھیں۔

رمزی یوسف کو اسلام آباد سے سات فروری سنہ انیس سو پچانوے میں گرفتار کیا گيا تھا اور انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا گيا تھا۔ رمزی اس وقت کولاروڈو کی جیل میں ہیں۔

امریکہ نے گزشتہ دس برسوں میں پاکستان میں خفیہ ایجنیسیوں کی قیادت میں کئی آپریشن کیے ہیں جس کئی مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گيا اور اسامہ بن لادن سمیت بہت سے افراد کو ہلاک کیا گيا۔

لیکن سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ ایسی معلومات فراہم کرنے کے لیے کسی ایک فرد واحد کو انعام دیا گيا یا نہیں، جس کی معلومات کے باعث گرفتاری عمل میں آئی یا پھر کسی کو ہلاک کیا گيا ہو۔

کیا حافظ سعید کے خلاف یہ پہلا عالمی قدم ہے؟

نہیں ایسا نہیں ہے۔ حافظ سعید لشکر طیبہ کے سربراہ رہے ہیں اور امریکہ نے دسمبر دو ہزار ایک میں اس تنظیم کو ’غیر ملکی دہشتگرد تنظیم‘ قرار دیا تھا۔ اسی طرح جب حافظ سعید لشکر طیبہ کے بعد جماعت الدعوۃ کی بنیاد رکھی تو اسے بھی دو ہزار آٹھ میں امریکہ نے اس کو بھی غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا۔

دو ہزار آٹھ میں ہی اقوام متحدہ نے بھی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس کے بعد اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھنے کے لیے حافظ سعید نے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم نے دو ہزاس دس اور گيارہ کے سیلاب میں بڑا فعال کردار بھی اد کیا۔

لیکن پہلے کے امریکی اعلانات اور انعام سے متعلق تازہ اعلان میں بڑا فرق ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے حافظ سعید کی تنظیم کو نشانہ بنایا تھا جبکہ اس بار وہ خود ٹارگٹ ہیں اور ان کے سر پر انعام کا اعلان کیا ہے۔

کیا حافظ سعید کی گرفتاری یقینی ہے؟

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ کے اس قدم کا حافظ سعید کے فلاحی کاموں پر کیا اثر پڑے گا۔ امریکی اعلان کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ پاکستانی فوج اس پر کیا موقف اختیار کرتی ہے جسے عام طور پر ان کی کارکردگی کا حامی مانا جاتا ہے۔

لیکن یہ بھی درست ہے کہ امریکہ کے اس قدم کو پاکستان پوری طرح سے نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کو منظور نہیں کرتے جیسے کہ جماعت الدعوۃ جو دفاعِ پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے کافی سرگرم ہیں۔

ممکن ہے کہ ان کے خلاف علامتی سطح پر ایک بار عدالتی کارروائي کی جائے اور انہیں عوامی جلسوں سے باز رکھا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں