کیا کراچی پاکستان کا علاقہ نہیں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد حنیف کا چہرا، ایک پاؤں اور دونوں ہاتھ جھلس گئے ہیں

شام کے پانچ بجے تھے رکشہ ڈرائیور محمد حنیف خان سواری کی تلاش میں نظریں سڑک کی دونوں طرف دوڑتے ہوئے رنچھوڑ لائن سے گارڈن کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان ان کے رکشہ کے قریب آ کر رکے اور ان کی طرف کوئی چیز پھینکی جس سے ان کی گاڑی کو آگ لگ گئی اور ان کا جسم جھلس گیا۔

کراچی میں پچھلے ہفتے متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ہلاکت کے بعد شہر میں پرتشدد واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جس میں تیس سے زائد افراد ہلاک اور پچاس کے قریب گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک اور زخمی کرنے کے واقعات تو پیش آتے رہے ہیں مگر کسی شخص پر تیزاب پھینکنے کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

جمعرات کی صبح جب محمد حنیف اپنے گھر نکلے تھے تو حالات میں کچھ قدر بہتری آچکی تھی، مگر ان میں کب اور کہاں سے خرابی پیدا ہوئی انہیں کچھ علم نہیں تھا۔

محمد حنیف کے مطابق وہ ایک سواری چھوڑ کر گارڈن کی طرف جا رہے تھے حملے کے وقت آس پاس دوسری گاڑیاں بھی موجود تھیں۔گارڈن پولیس نے پہنچ کر انہیں سول ہپستال منتقل کیا، جہاں ان کی مرہم پٹی کرکے فارغ کردیا گیا۔ محمد حنیف کے مطابق ایس ایچ او نے انہیں اہل خانہ سے رابطہ کرنے کو کہا مگر انہوں نے بتایا کہ وہ نہیں آسکتے، جس کے بعد انہیں ایک رکشہ میں سوار کیا گیا اور ایس ایچ او نے اپنی جیب سے کرایہ دیا۔

محمد حنیف پچھلے سال فسادات سے شدید متاثرہ علاقے کٹی پہاڑی پر رہتے ہیں، ان کا چہرا، ایک پاؤں اور دونوں ہاتھ جھلس گئے ہیں جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں، ان علاقے میں بجلی کئی گھنٹے غائب رہتی ہے جس کے باعث ان کے زخموں کی تکلیف اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حملہ آوروں کا نشانہ وہ تھے یا ان کا رکشہ مگر وہ اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ تیزاب رکشہ کے عقب کے بجائے سامنے آکر پھینکا گیا۔

چھ بچوں کے والد محمد حنیف کی روزی کا وسیلہ رکشہ مکمل طور پر جل گیا ہے۔ یہ رکشہ انہوں نے تین سال پہلے قسطوں پر لیا تھا اور بقول ان کے اب بھی پچپن ہزار رپے قرضہ ہے اور سارا دن رکشہ سڑکوں پر دوڑانے کے بعد بھی دو سے ڈھائی سو روپے دہاڑی بنتی تھی۔

کراچی گزشتہ پانچ سالوں سے لسانی فسادات کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث لوگ مخالف گروپوں کے اکثریتی علاقوں میں جانے سے محتاط رہتے ہیں۔

محمد حنیف لیاقت آباد، عثمان آباد، رنچھوڑ لائین، لائنز ایریا اورنگی ٹاؤن کے سمیت بعض دیگر علاقوں میں جانے سے گریز کرتے تھے، بقول ان کے واقعے والے روز وہ جس علاقے سے گذر رہے تھے وہاں پہلے کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

پینتالیس سالہ محمد حنیف کی پیدائش کراچی کی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ تعصب کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔’اگر میں پٹھان ہوں، تو میرا ہندوستانی سے کیا واسطہ اور اگر کوئی ہندوستانی ہے تو پٹھان کا اس سے کیا واسطہ کلمہ تو سب ایک ہی پڑھتے ہیں‘۔

حنیف کا کہنا ہے کہ انہیں کئی بار ایسے لوگ ملے ہیں جو حقارت سے کہتے ہیں کہ ’ یہاں کراچی میں کیا کر رہے ہو،اپنے علاقے میں جاکر مزدوری کروں۔ کیا کراچی پاکستان کاعلاقہ نہیں ہے؟‘۔

اسی بارے میں