نون لیگ کا پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ ختم

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس پانچ اپریل کو منعقد ہونا ہے

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے جمعرات کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مسلم لیگ نون نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاج کے طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینے والی اس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب جبکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں ہونے والے اس اضافے کا کچھ حصہ واپس لے لیا ہے تو ان کی جماعت نے بھی اس پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

مشاہد اللہ نے کہا کہ ان کا فیصلہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا تھا لیکن ان کی جماعت قومی سلامتی کے معالات سے مکمل طور پر عیلحدگی بھی اختیار نہیں کر سکتی۔

اس پارلیمانی کمیٹی کے ذمہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار سمیت متعدد اہم موضوعات پر پاکستان کی پالیسی تیار کرنے کی ذمہ داری ہے جو یہ کمیٹی سفارشات کی صورت میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سے بدھ کی شام فون پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے۔

کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے بدھ کو مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پانچ اپریل کو ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ترمیمی سفارشات پیش نہیں ہو سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) جو قومی سلامتی کے بارے میں کمیٹی کا حصہ رہ چکی ہے ابتدائی سفارشات تیار کرنے میں شامل رہی وہ اب تین روز سے کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہو رہی اور اس بارے میں انہوں نے باضابطہ طور پر کمیٹی کو مطلع بھی نہیں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم امریکی دباؤ کے پابند نہیں اور ہم نے جمہوری اور پارلیمانی نظام کے تحت کام کریں گے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات کی وجہ سے معاملہ طُول پکڑتا جا رہا ہے

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی سمیت دیگر معاملات طے کرنے میں امریکہ بظاہر جتنی جلدی کر رہا ہے، اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات کی وجہ سے اتنا ہی معاملہ طُول پکڑ رہا ہے۔

بدھ کو کمیٹی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن، مشاہد حسین سید، آفتاب احمد شیر پاؤ، ندیم افضل چن، منیر اورکزئی اور دیگر شریک ہوئے۔

یاد رہے کہ میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنی چالیس سفارشات پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی تھیں جس پر پہلے حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) نے شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا اور بعد میں حکمران جماعت کے اراکین نے بھی اس پر کڑی نکتہ چینی کی۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ خفیہ نہیں رکھنی چاہیے تھی اور کمیٹی نے اپنے دائرہ کار سے باہر جا کر امریکہ کے بجائے بھارت اور دیگر ممالک کے بارے میں بھی سفارشات تیار کیں اور اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔

اسی بارے میں