پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمت کا تعین کرنے واے ادارے اوگرا نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے اکتیس مارچ کو اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا اور اضافے کے خلاف عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اس اضافے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار پیٹرول کی قیمت سو روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی۔

منگل کی رات کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت دو روپے بتیس پیسے کی کمی کے ساتھ ایک سو تین روپے چھتیس پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت ایک روپے سولہ پیسے کی کمی کے ساتھ ایک سو سات روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی نئی قیمت ایک روپے چوہتر پیسے کی کمی کے ساتھ ننانوے روپے پچانوے پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اوگرا نے گاڑیوں میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس، سی این جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے۔

خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور پوٹھوہار کے علاقوں یعنی، راولپنڈی، اسلام آباد اور گوجر خان میں، سی این جی کی فی کلو قیمت میں ایک روپے پچانوے پیسے کی کمی کرتے ہوئے نئی قیمت چھیاسی روپے پچہتر پیسے فی کلوگرام مقرر کی ہے۔

صوبہ سندھ اور پنجاب میں ایک روپے اٹھہتر پیسے کی کمی کے بعد سی این جی کی نئی قیمت 0 79.2 فی کلوگرام ہو گئی ہے۔

گذشتہ کئی مہینوں سے پاکستان میں لگ بھگ ہر ماہ کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے روز مرّہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خدشے کے پیشِ نظر عوامی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا تھا۔

اسی بارے میں