پاکستان امریکہ تعلقات ناگزیر ہیں، ٹامس نائیڈز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی وزیر خارجہ ٹامس نائیڈز نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے منہ نہیں پھیر سکتے۔

بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ درپیش چیلینجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورہ حال ہی میں تاجکستان میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے مارک گراسمین اور جنوبی کوریا میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے صدر اوباما کی ملاقاتوں کا بظاہر ’فالو اپ‘ لگتا ہے۔

مسٹر ٹامس نے صدر اوباما کی بات دہرائی اور کہا کہ ’دونوں ممالک کے تعلقات متوازن ہونے چاہیئیں جس میں پاکستان کی خودمختاری اور مفادات کا احترام بھی شامل ہو اور امریکہ کی قومی سلامتی کے بارے میں امریکی تشویش کی نمائندگی بھی ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ گزشتہ سال کتنا چیلینجنگ رہا اور مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے اختلافات بڑے تعمیری انداز میں طے کرنے پر کام کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ، پاکستان اور خطے میں استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان ایک محفوظ، مضبوط اور پرامن ملک بنے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان خود مختاری اور مفادات کا احترام کرتا ہے اور خواہاں ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات متوازن ہوں۔

’ہمارے مختلف نکتہ نظر ہیں اور جہاں پر بھی ایسا ہے وہاں ہم ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

جبکہ پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ امریکہ سے از سر نو تعلقات کے لیے پارلیمان اپنا کام کر رہا ہے اور پاکستان کی جمہوری حکومت چاہتی ہے کہ خارجہ پالیسی عوامی خواہشات کی عکاس ہو۔

اسی بارے میں