جرائم میں ملوث وزراء کیخلاف کارروائی کا حکم

لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج (فائل فوٹو)
Image caption عدالت کو بتایاگیا کہ گذشتہ دوسالوں کے دوران بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تین سو انتالیس لاشیں ملیں لیکن کسی ایک کی بھی تحقیقاتی رپورٹ نہیں ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت بلوچستان کوہدایت دی ہے کہ جو لوگ ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہوئے ہیں یا جن کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں ان کے لواحقین کومعاوضہ ادا کیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں پھنکنے والوں کے بارے میں صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ جرائم میں مبینہ طور پر ملوث صوبائی وزراء کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سپریم کور ٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس طارق پرویز اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ نےجمعرات کو بھی بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے آئینی پٹیشن کی سماعت جاری رکھی۔

سماعت کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان ، صوبائی سکریٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان ہائی کورٹ امان اللہ کنرانی، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک ظہور شاہوانی ایڈوکیٹ اورانسپکٹرجنرل پولیس بلوچستان راؤ امین ہاشم عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

لاپتہ افراد کے لواحقین جن میں خواتین بھی شامل تھیں، عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس نے بلوچستان میں اغوا برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ، مذھبی دہشت گردی اور لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی تحقیقات نہ ہونے پر صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ ان واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے اور ان واقعات میں ملوث افراد کوگرفتار کیاجائے۔

جس پر صوبائی سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ اغوا برائے تاوان میں ملوث پینتالیس افراد کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے جب کہ ایڈوکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ایسے واقعات روکنے کے لیے اقدامات ہو رہے ہیں جلد ہی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

عدالت کو بتایاگیا کہ گذشتہ دوسال کے دوران بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تین سو انتالیس لاشیں ملیں لیکن کسی ایک کی بھی تحقیقاتی رپورٹ نہیں ہے جو یہ ظاہر نہیں کرتی کہ انہیں کس نے قتل کیا اور کس بنیاد پر انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

عدالت میں بینچ کے ایک رکن نے کہا کہ پولیس، لیویز اور فرنٹیئرکور کی موجودگی کے باوجود کوئٹہ اور صوبے کے دیگرعلاقوں میں کالے شیشوں والی گاڑیوں میں مسلح افراد آزاد گھوم رہے ہیں لیکن کسی کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کی جرات نہیں ہے۔

عدالت میں صوبائی وزیر داخلہ میر ظفراللہ زھری کو ان کا وہ ویڈیو انٹرویو بھی دکھایاگیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اغوا برائے تاوان اور دیگرجرائم میں دو، تین وزرا بھی ملوث ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ اجازت دیں توان کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

جس کے بعد عدالت نے صوبائی حکومت کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ملوث وزرا کے خلاف کارروائی کریں اور اگر صوبائی وزیر داخلہ نےغلط بیانی سے کام لیا ہے تو ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کی جائے کیونکہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاترنہیں ہے۔

چیف جسٹس نے چیف سکریٹری حکومت بلوچستان کوہدایت کی کہ صوبے میں جو لوگ اب تک ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہوئے ہیں یا جن کی مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں ان کے ورثا کو معاوضے ادا کیے جائیں اور جولوگ ابھی تک لاپتہ ہیں ان کی بازیابی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

اس دوران لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی بیانات قلمبد کرائے اور کہا کہ آج تک نہ کوئی لاپتہ شخص بازیاب ہوا ہے اور نہ ہی پولیس ان کی ایف آئی آر درج کرتی ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے صدر نصراللہ بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے میں اور بہت سے واقعات میں فرنٹیئر کور اور دیگر خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کوہدایت کی کہ وہ جمعے کو لاپتہ افراد کی مفصل رپورٹ پیش کریں۔ اس کے علاوہ آئی جی ایف سی سے بھی وضاحت طلب کی گئی۔

عدالت نے اس سال یکم مارچ کو سریاب روڈ سے اغوا ہونے والے سات افراد کی تاحال بازیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور آئی جی پولیس کو ہدایت دی کی کہ وہ ان افراد کو بازیاب کرائیں اور جمعے کی صبع کو عدالت میں پیش کریں۔ بصورت دیگر آئی جی سمیت تمام متعلقہ پولیس افسران کو معطل کر دیا جائے گا۔

عدالت نےآئینی پٹیشن کی سماعت جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں