کراچی حملہ: پولیس انسپکٹر کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں جمعرات کو ایس پی ملیر راؤ انور پر ہونے والے مبینہ خودکُش حملے کا مقدمہ ایک حاضر سروس انسپکٹر ان کے بھائی اور ایک ساتھی کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

مقامی تھانے ماڈل کالونی کے تھانیدار یاسین گجر نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا کہ ایس ملیر راؤ انور نے جو بیان دیا تھا اس بیان پر یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہوں نے جن افراد کو نامزد کیا تھا ان کے خلاف یہ پرچہ کاٹا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انسپکٹر اعظم محسود سمیت تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں ان کے بھائی شیر زمان محسود اور ان کےساتھی زبیر محسود بھی شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انسپکٹراعظم حاضر سروس ہیں اور وہ کراچی تاہم وہ کہاں تعینات ہیں اس بارے میں معلومات ابھی لی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تینوں افراد رپوش ہیں اور ابھی تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ملیرہالٹ کے علاقے میں ایک خودکُش حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملہ میں ایس پی راؤ انوار کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

خیال رہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جمعرات کے روز کراچی میں ہوئے پولیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بی بی سی کو اس حملے کے ایک روز بعد تحریک طالبان کے میڈیا سیل سے بظاہر موصول ہونے والی ایک ای میل میں کہا ہے کہ وہ اس خودکش حملے کے ذمہ دار ہیں۔ حملے کی وجہ یا ہدف کے بارے میں تاہم کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

تاہم ای میل کی دلچسپ بات پہلی مرتبہ تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما اور خودکش حملوں کے نگران قاری حسین کا نام استعمال کیا گیا ہے۔ پیغام کے مطابق ’میں قاری حسین تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کراچی میں پانچ اپریل کو خودکش حملے (فدائی حملے) کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘

قاری حسین کے بارے میں ایک طویل عرصے سے یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ وہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم اس کی نہ تو سرکاری سطح پر اور نہ ہی طالبان کی جانب سے اب تک تصدیق ہو پائی ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قبائلی علاقے وزیرستان میں خودکش حملہ آوروں کی تربیت گاہ کا انتظام چلاتے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان کے نام سے پیغام جاری کیا گیا ہے۔ پیغام میں میں ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جو پاکستان کے ایک مقامی ٹیلی وژن پر چل چکی ہے۔

طالبان اس سے قبل بھی ملک بھر میں پولیس پر ہوئے کئے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں