خیبر: نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہوگئی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے باشندوں کی تعداد سو فیصد بڑھ گئی ہے اور اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ متاثرین شدت پسند گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں سے تنگ آ کر اپنےگھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے حالات گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی طرح کشیدہ ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ جنوری میں سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے سلسلے میں بھی تیزی آ گئی۔ اِن دنوں خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز، قبائلی رہنماء منگل باغ کا گروہ لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان، اور حکومت کے حمایت یافتہ مقامی لشکر ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین، یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران، خیبر ایجنسی کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ باشندوں نے جلوزئی کیمپ میں اندراج کرایا ہے۔ ادارے کے ترجمان تیمور احمد کے مطابق روزانہ آنے والے متاثرین کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

’بیس جنوری سے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے اِن کی آمد شروع ہوئی۔ سولہ مارچ تک، اندازاً دو سو سے ڈھائی سو خاندان رجسٹر ہو رہے تھے۔ سترہ مارچ سے اس تعداد میں بہت اضافہ ہوا، اور ابھی ہم تقریبا دو ہزار سے پچیس سو خاندانوں کو روز رجسٹر کرتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ جلوزئی کیمپ میں یو این ایچ سی آر کی انتظامیہ کو خیبر ایجنسی سے متاثرین کی آمد کے بارے میں سرکاری حکام نے پیشگی اطلاع نہیں دی اور پناہ گزینوں کی تعداد بتدریج بڑھتی چلی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ تین ماہ کے دوران، خیبر ایجنسی کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ باشندوں نے جلوزئی کیمپ میں اندراج کرایا ہے

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، خیبر ایجنسی کے ایک تہائی متاثرین جلوزئی کی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں جبکہ اندراج کرانے والے زیادہ تر پناہ گزین پشاور میں کرائے کے گھروں یا عزیز و اقارب کے ہاں مقیم ہیں۔

جلوزئی کیمپ میں باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں تقریباً آٹھ ہزار متاثرین پہلے سے موجود تھے۔ اُن کے علاوہ گزشتہ دو سالوں کے دوران خیبر ایجنسی سے بھی مختلف اوقات میں متاثرین کی آمد ہوئی لیکن وہاں سے پناہ گزینوں کی نئی لہر کی وجہ سے کرائے پر زمین لے کر، کیمپ میں توسیع کی گئی ہے۔

یہ متاثرین، شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کے رویے سے تنگ آ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

تیراہ کی چالیس سالہ گلزرینہ نے چھ ماہ قبل خوفزدہ ہو کر پہلے باڑہ منتقل ہوئیں۔ ’تیراہ میں جو گولہ باری اور فائرنگ تھی، اس کی وجہ سے شور بہت تھا۔ہم ڈرتے تھے، ہمارے بچے ڈرتے تھے، ان کا دل ایسے ہوتا تھا جیسے پھٹنے لگتا ہے‘۔

باڑہ میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہونے پر گلزرینہ دو ہفتے قبل اپنے آٹھ بچوں کے ہمراہ جلوزئی کیمپ آ گئیں۔

باڑہ کے علاقے میلواڑ میں، چوتھی جماعت کے طالبعلم یٰسین کو بھی رات بھر جاری رکھنے والے مارٹر گولوں کے دھماکوں سے خوف آتا تھا۔ اُن کے والد نے بتایا کہ دن میں دس بارہ مارٹر گولے اُن کے گھر کے قریب گرتے تھے۔

’کبھی فوج آتی ہے، ظلم ڈھاتی ہے، کبھی طالبان آتے ہیں، سفید کپڑوں میں، کالے کپڑوں میں۔ تین مہینے سے جو سلسلہ شروع ہوا، ویسے حالات ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے‘۔

اٹھارہ سالہ صحت خان(نام تبدیل کیا گیا ہے) کا تعلق بھی باڑہ سے ہے۔ انہوں نے خوف کے مارے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بی بی سی سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں فرنٹیئر کور سے چھپ چھپا کر نقل مکانی کرنی پڑی۔

’ملیشیا والے ہمارے گھر کے باہر بیٹھتے تھے۔ ہمیں گھر سے باہر نہیں جانے دیتے تھے۔ ہمارے پاس پینے کا پانی ختم ہو گیا تھا۔ ہماری گندم ختم ہو گئی۔ ہم ملیشیا سے چھپ کر نکلے تھے‘۔

کاشتکار لعل محمد نے بتایا کہ کرفیو کے دنوں میں مقامی لوگ مریضوں کو طبی امداد کے لیے باہر نکالنے سے بھی محروم ہو جاتے تھے۔ ’فوج بھی مارتی ہے اور طالبان بھی مارتے ہیں۔ کوئی ایک فریق ہمارے گھر سے آ کر پانی پی جاتا تھا تو دوسرا آ کر گولیاں چلانا شروع کر دیتا تھا‘۔

ستر سالہ سنت خان کا گھر تیراہ میں ایک سڑک کے کنارے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب کبھی کوئی دھماکہ ہوتا تھا تو سکیورٹی فورسز اردگرد کے تمام گھروں کی تلاشی شروع کر دیتی تھیں۔ ’میں نے اٹھارہ سال ملیشیا میں نوکری کی۔ انہیں اپنی ملازمت کا کارڈ دکھا دیتا تھا۔ اس لیے وہ میرے گھر میں نہیں گھستے تھے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انہیں اپنی ملازمت کا کارڈ دکھا دیتا تھا اس لیے وہ میرے گھر میں نہیں گھستے تھے:سنت خان

لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں سوال پر خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جلوزئی میں ہمارا پرانا کیمپ ہے۔ کافی بڑا اور کافی پرانا ہے۔ یہ افغان مہاجرین کے وقت سے چلا آرہا ہے اور وقتاً فوقتاً جو بھی ضرورت پڑتی رہی تو ہمارے مالاکنڈ ڈویشن، مہمند، وزیرستان اور اب خیبر۔ وہاں آپریشن کافی کامیاب بھی رہا اور پھر وہاں جو پرامن لوگ تھے انہیں وہاں سے نقل مکانی کرنی پڑی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جو افراد کیمپوں میں نہیں ہیں اور کرائے کے گھروں میں ہیں وہ زیادہ تر بوجھ تو وہ خود ہی اٹھا رہے ہیں۔ ہم کیمپ میں ہی سہولتیں فراہم کرتے ہیں‘۔

افتخار حسین نے کہا کہ ’یہ تمام ذمہ داری مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ اصل میں یہ مرکزی حکومت کے ہی علاقے میں رہتے ہیں ہم تو اپنی ذمہ داری پاکستانی اور پختون ہونے کے ناتے نبھاتے ہیں لیکن اپنے وسائل میں رہتے ہوئے جب ہم یہ کرتے ہیں تو اسے مکمل کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ضمن میں مرکزی حکومت بھی ہماری امداد کرتی ہے لیکن جس پیمانے پر یہ مسئلہ ہے اس پیمانے پر ہمیں سپورٹ نہیں ملتی‘۔

اسی بارے میں