سیاچن:امریکی امدادی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی حکام کے مطابق برفانی تودہ گرنے کا واقعہ سیاچن گلیشیئر کے گلیاری سیکٹر میں پیش آیا

پاکستانی فوج کے مطابق سیاچن کے قریب برفانی تودے تلے دبے فوجی اہلکاروں سمیت 135 افراد کو بچانے کی کارروائی میں مدد کے لیے امریکی ماہرین کی آٹھ رکنی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق اس برفانی تودے کے نیچے دب جانے والوں میں سات افسران کے علاوہ ایک سو سترہ فوجی اہلکار اور اس کے علاوہ گیارہ عام شہری شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ کرنل تنویر الحسن سمیت اس برفانی تودے کے نیچے دب جانے والے افراد کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امریکی ماہرین کی ٹیم امدادی کارروائی میں فنی مدد فراہم کرے گی۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی ماہرین کی ٹیم سے امدادی کارروائی کو تیز کرنے کے امکانات اور نوعیت پر بات چیت کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ کے علاوہ دوسرے دوست ملکوں سے بھی فنی مدد کی پیشکشیں ہوئی ہیں جن پر غور کیا جا رہا ہے۔

بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی علاقے میں پہنچ گئے ہیں اور وہ امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برف کے نیچے دب جانے والے فوجیوں میں سے اکثریت کا تعلق سکردو کی سب ڈویژن شگر سے ہے اور ان سب کا تعلق ناردرن لائٹ انفنٹری چھ سے ہے۔ اس علاقے میں دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو بھی واقع ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سنیچر کی شب موسم کی خرابی کے باعث برفانی تودے کے نیچے دبے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے روک دی جانے والی امدادی کارروائیاں اتوار کو دوبارہ شروع کر دی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ابھی تک وہاں سے کسی زخمی یا ہلاک ہونے والے شخص کو نہیں نکالا گیا۔ برفانی تودے کو کاٹنے کے لیے مزید مشینری کو بھی علاقے میں بھجوا دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کےترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کو ڈھونڈنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور موجودہ صورتحال میں ’اگر کوئی زندہ بچ گیا تو یہ ہماری خوش قسمتی ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ برفانی تودہ ایک مربع کلومیٹر وسیع اور ساٹھ سے اسی فٹ اونچا ہے تام مختلف اطراف سے کھدائی کی جا رہی ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق برفانی تودے کا حُجم بہت بڑا ہے اس لیے اُسے کاٹنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ذرائع نے کہا کہ آپریشن کے مکمل ہونےمیں کئی دن لگ سکتے ہیں کیونکہ جس علاقے میں یہ حادثہ پیش آیا ہے وہاں درجہ حرارت منفی ستر ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔

اس سے قبل میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ فوج کے جس صدر دفتر پر یہ برفانی تودہ گرا ہے وہ وہاں بیس سال سے قائم تھا اور ایسا واقعہ کبھی پہلے دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا تھا کہ برفانی تودہ سنیچر کی صبح چھ بجے گرا اور اس کی زد میں ایک پورا بٹالین ہیڈ کوارٹر آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے اعتبار سے یہ حادثہ غیرمعمولی ہے کیونکہ برف کے تودے عموماً ایک گرم دن کے بعد شام کے وقت گرتے ہیں۔

مقامی صحافی قاسم حسین بٹ کے مطابق برفانی تودہ گرنے کا واقعہ گلگت بلتستان کے ضلع گھانچے سے ایک سو کلومیٹر کی مسافت پر پیش آیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پچاس کلومیٹر تک تو سڑک موجود ہے جبکہ اس کے بعد چھوٹے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

واضح رہے کہ سیاچن گلیشئر متنازع کشمیر کے علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع ہے اور اسے دنیا کے اونچے ترین جنگ کے میدان کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

دو ہزار تین میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی سیاچن میں تعینات ہیں۔

سیاچن میں شدید موسمی حالات کی وجہ سے پہلے بھی فوجی جوانوں کی ہلاکت کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

سیاچن کے تنازع کو حل کرنے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ان میں ابھی تک کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں