کرم: چیک پوسٹ پر حملہ، دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے ایک حملے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں دو شدت پسند مارے گئے۔

کُرم ایجنسی میں ایک سینیئر آفیسر نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ پیر کو علی الصُبح لوئر کُرم کے علاقے خاپ ینگہ میں درجنوں مُسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

حملے کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے پر حملے کیے گئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ چیک پوسٹ پر راکٹ گرنے سے اندر موجود عثمان خان نامی سپاہی ہلاک ہو گیا جبکہ لانس نائک شرین بیٹنی بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران چار اہلکار لاپتہ بھی ہوگئے تھے لیکن بعد میں وہ سکیورٹی فورسز کی ایک دوسری چیک پوسٹ میں پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو شدت پسند مارے گئے ہیں جن میں سے ایک کی لاش سکیورٹی فورسز نے قبضے میں لے لی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کے حملے میں دو چیک پوسٹوں کو نقصان پہنچا تاہم بعد میں سکیورٹی فورسز نے تمام شدت پسندوں کو علاقے سے بے دخل کر کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

یاد رہے کہ کُرم ایجنسی کے جس علاقے میں یہ جھڑپیں ہوئی ہے اس علاقے کی سرحدیں شمالی وزیرستان کے تحصیل سپین وام سے ملتی ہیں۔

حکام کے مطابق متاثرہ چیک پوسٹوں کے قریب شمالی وزیرستان کے اندر پہاڑی سلسلے میں کئی دنوں سے شدت پسندوں کے موجودگی کی اطلاع تھی۔

اسی بارے میں