ڈرگ سکینڈل: وزیراعظم کے بیٹے کو نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے ڈرگ سکینڈل کے مقدمے میں وزیر اعظم کے چھوٹے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی علی موسٰی گیلانی اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے انسداد منشیات کی فورس اے این ایف کے ریجنل ڈائریکٹر بریگیڈئیر فہیم احمد خان اور عابد ذوالفقار کے تبادلے کے احکامات معطل کرتے ہوئے اُنہیں تفتیش جاری رکھنے کا حکم یدا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بڑے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی کے رکن عبدالقادر گیلانی کے خلاف حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اور سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی اس مقدمے میں ابھی تک جیل میں ہیں۔

وزیر اعظم خود توہین عدالت کے مقدمے میں ملزم ہیں اور سپریم کورٹ اُن پر اس مقدمے میں فرد جُرم بھی عائد کر چکی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو کیمیکل کوٹہ الاٹمنٹ کے مقدمے کی سماعت کی تو بریگیڈئیر فہیم کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کو محض اس لیے تبدیل کر دیا گیا ہے کہ یہ ٹیم اُس مقدمے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں موجودہ وزیر اعظم کا بیٹا ملوث ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں ہو رہا جب بھی کسی اہم مقدمے کی تفتیش ہونے لگتی ہے تو اُس تفتیشی ٹیم کو ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو پھر ذمہ دار افراد کبھی بھی منظر عام پر نہیں آ سکیں گے۔

بریگیڈئیر فہیم نے عدالت کو بتایا کہ اُن کی ٹیم پر مختلف سرکاری اداروں کی طرف سے دباؤ ڈلوایا جا رہا ہے کہ اس مقدمے میں سے وزیر اعظم کے صاحبزادے علی موسٰی گیلانی کا نام نکال دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود لاشاری کو بھی بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس ضمن میں تمام حکومتی مشینری سرگرم ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ پرنسپل سیکرٹری پہلے سیکرٹری صحت بھی رہے ہیں اور اُنہوں نے ہی کوٹے سے زیادہ کیمیکل درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

بریگیڈئیر فہیم کا کہنا تھا کہ خوشنود اختر لاشاری کی خواہش پر ہی وہ اُن سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔

یاد رہے کہ ایفڈرین کیمیکل مختلف اداویات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل اینٹی نارکاٹکس کنٹرول بورڈ نے گُزشتہ برس اس کیمیکل کا کوٹہ بائیس ہزار کلوگرام مقرر کیا تھا۔

اے این ایف کے حکام کے مطابق خوشنود اختر لاشاری کے حکم پر اکتیس ہزار کلو گرام کیمیکل درآمد کیا گیا جسے دو کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا۔

حکام کے مطابق اس کیمیکل کی درآمد میں چھ ارب سے زائد کی بدعنوانی کی گئی ہے۔

اے این ایف کے حکام نے گُزشتہ برس اکتوبر میں اس ضمن میں مقدمہ بھی درج کیا تھا جس کی تحقیقات جاری تھیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اے این ایف کے حکام سے کہا کہ وہ اپنی تحقیقات جاری رکھیں اور کہا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور علی موسٰی گیلانی کو جو نوٹس جاری کر رکھے ہیں اگر وہ پیش ہوتے ہیں تو اُن کے بیانات بھی قانون کے مطابق ریکارڈ کیے جائیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان افسران کے تبادلے میں سیاسی اثر و رسوخ زیادہ دیکھائی دیتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ این این ایف ایکٹ کے تحت اس ادارے کے سربراہ حاضر سروس میجر جنرل یا بریگیڈئیر ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل شکیل حسین کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور نارکاٹکس کنٹرول ڈویژن کے سیکرٹری ظفر عباس لک کو اے این ایف کے سربراہ کی اضافی ذمہ داری سونپی تھی۔

عدالت نے رکن قومی اسمبلی علی موسٰی گیلانی اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری کو بیس اپریل کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یاد رہے کہ علی موسٰی گیلانی حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہو کر آئے ہیں یہ نشست سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں