’توانائی کانفرنس ایک فوٹو سیشن تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں توانائی کا بحران گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس کے خلاف متعدد بار پرتشدد مظاہرے ہو چکے ہیں

صعنت کار ہو یا تاجر، ماہر اقتصادیات یا پھر عام شہری سب کا اس بات اتفاق ہے کہ توانائی کانفرنس میں جو فیصلے کیے گئے ان سے ملک میں بجلی کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ اسی طرح کے فیصلے آج سے دو سال پہلے ہونے والی کانفرنس میں بھی کیے گئے تھے اور ان فیصلوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر غور کرنے کے بجائے اس کی بچت پر زور دیا گیا ہے۔

لاہور میں ہونے والی توانائی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کاروباری مراکز رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں، سرکاری دفاتر ہفتے میں پانچ دن کام کریں گے،سائن بورڈز کو بجلی کی فراہمی بند کرنے کے علاوہ بجلی کی بچت کے لیے انرجی سیور استعمال کیے جائیں گے۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ توانائی کانفرنس میں بجلی پیدا کرنے کے لیے منصوبہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پاور پلانٹز کو دوبارہ سے بحال کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے یہ پلانٹس پرزے خراب ہونے کی وجہ سے بند ہیں۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کے بقول توانائی کانفرنس فوٹو سیشن تھا اور صورت حال ویسی ہی رہے گی جیسی کانفرنس سے پہلے تھی۔

انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ تیل کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ایک نیا عذاب شروع ہو جائے گا اور جو بجلی ملی رہی ہے وہ بھی دستیاب نہیں ہوگی۔

تاجر رہنما عبدالزراق ببر کے بقول توانائی کانفرنس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ دو برس پہلے ہونے والی کانفرنس میں بھی اسی طرح کے فیصلے کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا گیا جو اس بات کو ظاہر کرے کہ اس سے بجلی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تاجر رہنما عبدالزراق ببر نے کا کہنا ہے کہ جلد دکانیں بند کرنا بجلی کے مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے ہفتہ وار تعطیل یعنی اتوار کو سب کاروباری مراکز اور دفاتر بند ہوتے ہیں لیکن اس دن بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

تاجر رہنما نے سوال اٹھایا کہ کرکٹ میچ والے دن بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی ہے اس دن بجلی کہاں سے آتی ہے۔

بجلی پیدا کرنے والے ادارے پیپکو کے سابق سربراہ منور بصیر اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ بجلی کی بچت کی جانے چاہیے تاہم ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بچت سے توانائی بحران حل نہیں ہوگا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار بڑھانی ہوگی۔

منور بصیر نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کانفرنس میں ان پاور پلانٹ کی مرمت کرنے کی بات نہیں کی گئی جن کی بحالی سے فوری بجلی مل سکتی۔

ان کے بقول ان بند پاور پلانٹس کو بحال کرنے سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی باآسانی مل سکتی ہے۔

منصور بصیر نے تجویز دی کہ صوبوں کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کی وصولی کی جائے اور اس طرح جو رقم حاصل ہوگی وہ بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

اقتصادی ماہر ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ یہ کانفرنس خاصی دیر سے کی گئی ہے اور اس کانفرنس سے صوبائی ہم آہنگی تو ظاہر ہوتی ہے لیکن یہ بجلی کے مسئلے کو حل نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کا استعمال بھی بڑھے گا اور لوڈشیڈنگ زیادہ ہوجائے گی اور اس تمام صورت حال میں بجلی کی بچت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر قیس اسلم نے تعجب کا اظہار کیا کہ پاور پلانٹ کو گیس فراہم کرنے سے بجلی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن کانفرنس میں گیس کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

ادھر صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں بجلی کی بچت کے لیے جو فیصلے گیے ہیں اس سے صعنت کو اتنی بجلی نہیں ملے گی جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکے ۔

اسی بارے میں