شریف برادران کا یونس حبیب کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یونس حبیب نے شریف برادران کا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی ہے‘

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اور ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے مہران بینک کے سابق یونس حیبیب کو دس ، دس ارب روپے کے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیے ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا کہ یونس حبیب چودہ دنوں میں نواز شریف اور شہباز شریف پر بے بنیاد الزامات لگانے پر معافی مانگیں ورنہ ان کے قانونی چارہ جوئی کی جائےگی۔

قانونی فرم کارنیلس، لین اینڈ مفتی ایڈووکیٹس اینڈ سولسٹرز کے توسط سے بجھوائے گئے نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ یونس حبیب نے مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سیاسی و سماجی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے لیے من گھڑت الزامات کا سہارا لیا ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق نوٹسز میں کہا گیا کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہبازشریف ملک کی باعزت شخصیات ہیں جنہوں نے دو مربتہ وزیراعلیْ کے طور پر اور اول الذ کرنے دو مرتبہ وزیر اعظم کی حیثیت سے بھی ملکی خدمات سرانجام دی ہیں۔

سیاستدانوں میں رقم تقسیم کرنے سے متعلق ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغرخان کی درخواست کی سماعت کے دوران سابق بینکار یونس حبیب نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے سنہ انیس سو نوے کے انتخابات سے قبل سیاستدانوں میں تقریباً پینتیس کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔

یونس حبیب نے عدالت میں اپنا تحریری بیان جمع کرواتے ہوئے اس سکینڈل کا حصہ بننے پر معافی مانگی تھی۔

نوٹسز میں کہا گیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے اپنے دور اقتدار میں ملک میں قانون کی حکمرانی اور ملکی خودمختاری کو یقینی بنانے اور قومی معیشت کے استحکام کے لیے بھر اقدامات کیے اور تمام وسائل کو عوام کی فلاح بہبود کے لیے بروئے کار لائے۔

نواز شریف اور شہباز شریف نے قانونی نوٹسز میں کہا کہ یونس حبیب نے ان کی سیاسی اور سماجی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کا میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

قانونی نوٹسزمیں یہ بھی کہاگیا کہ یونس حبیب نے میڈیا پر متضاد بیانات دیئے اور بار بار اپنے موقف کو تبدیل کیا جو ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔

عزت ہتک کے قانون کے بھجوائے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یونس حبیب ان نوٹسز کی وصولی کے چودہ دن کے اندر میڈیا میں نواز شریف اور شہباز شریف پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف متعلقہ عدالت میں دس ، دس ارب روپے کے دعوے دائر کر دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں