’پانچ مقامات کی نشاندہی، کھدائی کا کام جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دبے ایک سو انتالیس افراد کی تلاش کا کام جاری ہے اور پانچ مقامات کی نشاندہی کے بعد وہاں کھدائی کی جا رہی ہے۔

ادھر امدادی آپریشن میں پاکستان کی مدد کے لیے جرمن اور سوئس ٹیمیں منگل کو پاکستان پہنچ گئی ہیں جبکہ امریکی ماہرین پہلے ہی پاکستان آ چکے ہیں۔

تاہم جائے حادثہ پر موسم کی خرابی کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ان ماہرین کو بھی زمینی راستے سے ہی روانہ کیا گیا ہے۔

منگل کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی آپریشن میں ساڑھے چار سو فوجی اہلکار اور انسٹھ عام شہری حصہ لے رہے ہیں۔

بیان کے مطابق برفانی تودے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے پانچ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور امدادی ٹیمیں کھدائی کا کام کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دو جگہوں پر کھدائی کا کام مشینری کے ذریعے کیا جا رہا ہے جبکہ تین جگہوں پر فوجی اہلکار اور عام شہری کھدائی کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی آپریشن میں پانچ ہیلی کاپٹرز بھی شریک ہیں جبکہ اسلام آباد سے ایک سی ون تھرٹی طیارے کی مدد سے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے ماہرین کو بھی متاثرہ علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق امدادی آپریشن میں مدد کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ سے تین ماہرین پر مشتمل ٹیم جبکہ جرمنی سے آفات سے نمٹنے کے ماہرین پر مشتمل چھ رکنی ٹیم ضروری سازوسامان سمیت پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان پہنچیں۔

بیان کے مطابق جرمن اور سوئٹزرلینڈ سے آئی ٹیمیں گیاری سیکٹر کا دورہ کریں گی۔ تاہم موسم خراب ہونے کے باعث یہ ٹیمیں گیاری سیکٹر نہیں جا سکیں۔

واضح رہے کہ پچھلے دو دنوں سے علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے کوئی بھی پرواز سکردو میں نہیں اُتر رہی ہے۔

امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے امریکہ کی آٹھ رکنی ٹیم جو اتوار کو پاکستان پہنچی تھی، خراب موسم کی وجہ سے جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی۔

منگل کو بھی آئی ایس پی آر نے امدادی آپریشن کی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہیں جن میں بھاری مشینری کی مدد سے کھدائی کرتے دکھایا گیا ہے۔

پیر کو فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چالیس فٹ طویل، تیس فٹ چوڑا اور دس فٹ گہرے حصے کی تلاشی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

ادھر پاکستان میں کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں سیاچن میں پیش آنے والے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔

منگل کو ایچ آر سی پی کی جانب سے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کمیشن ’ایک سو چوبیس فوجیوں سمیت ایک سو چھتیس افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے اس سانحے پر غمگین ہے اور اس کی ہمدردیاں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ فوری طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ سیاچن گلیشیئر پر تعینات فوجیوں کو کن حالات کا سامنا ہے اور موسم کی شدت اور اس علاقے کی غیر یقینی نوعیت کے باعث پیش آنے والے قدرتی خطرات سے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں‘۔

اسی بارے میں