فرقہ وارانہ ہلاکتوں پر ایچ آر سی پی کی تشویش

Image caption کوئٹہ اور گلگت میں ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہیں: ایچ آر سی پی

پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے پاکستان میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئٹہ اور گلگت، بلتستان میں حالیہ ہلاکتیں سنگین نوعیت کے واقعات ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کوئٹہ،گلگت اور بلتستان میں جو خون کی ندیاں بہائی گئی ہیں وہ مذہبی منافرت پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔

لاہور میں نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن زہرہ یوسف نےعدلیہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہا پسندی کے واقعات میں ملوث افراد کو شواہد کی کمی کے سبب چھوڑ دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو چاہیے کہ جس طرح حکومتی اداروں میں ہونے والی کرپشن پر عدلیہ شواہد کی کمی پر تحقیقات کرنے والوں کو دوبارہ تحقیقات کا حکم دیتی ہے اسی طرح اسے شدت پسندوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو رہا کرنے کی بجائے ان کے مقدمات کو بار بار پولیس کو مزید شواہد تلاش کرنے کے لیے بھیجے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ اور گلگت میں ہونے والے فرقہ وارانہ خون خرابے سے انتہائی پریشان ہے کیونکہ یہ ہلاکتیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ فسادی لوگ افغانستان سے آئے تھے اور یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں آئے دن جو فرقہ وارانہ فسادات پھوٹتے ہیں ان کا سبب خود ہماری ریاستی پالیسی ہے جو کہ عدم برداشت کو جنم دیتی ہے اور مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔

کمیشن برائے انسانی حقوق نے مطالبہ کیا ہے کہ ظاہری وجوہات پر وقت ضائع کرنے کی بجائے مسئلے کی اصل جڑ تلاش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ریاستی پالیسیوں کے باعث شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مذہبی منافرت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس وقت پاکستان کے لیے یہ سب سے زیادہ خطرناک صورت حال ہے۔

ان برے حالات میں ان لوگوں کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے جو عوامی حقوق، انسانی توقیر اور پاکستان کے مستقبل پر یقین رکھتے ہیں ورنہ اس صورتحال کے نتائج ملک کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔

کمیشن نے مطالبہ کیا کہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت جمہوری سوچ رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرے اور تمام باشعور شہری متحد ہو کر اس بات کی کوشش کریں کہ ملک کو شدت پسندی اور جہالت کے اس جنجال سے چھٹکارا دلایا جائے۔