سندھ بھر میں جسقم کی شٹر ڈاؤن ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ

سندھ کی قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کے پوسٹ مارٹم کے موقع پر کیمیائی تجزیے کے لیےحاصل کیے گئے جراثوموں میں مبینہ ہیرا پھیری کے خلاف بدھ کو کراچی کے علاوہ سندھ بھر میں شٹر بند ہڑتال ہے۔

جئے سندھ قومی محاذ کو شبہ ہے کہ ان کے رہنما کو زہر دے کر ہلاکت کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹروں نے فوری طور پر ہلاکت کی وجہ دل کا دورہ بتائی تھی تاہم پانچ روز گذرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے نہیں آسکی ہے۔

حکومت نے تنظیم اور بشیر قریشی کے اہل خانہ کو مطمئن کرنے کے لیے کیمیائی تجزیہ کراچی کے بڑے نجی ہپستال سے کرانے کا اعلان کیا مگر کراچی آنے کے بعد سول ہپستال سے تجزیہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا، جسے جئے سندھ قومی محاذ کی قیادت نے مسترد کردیا ہے۔

سندھ کی علیحدگی کے فکر کی پیروکار تنظیم جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کی طبیعت جمعے کی شب اچانک بگڑ گئی تھی اور بعد میں ان کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد سندھ کے کئی شہر سوگ میں بند رہے تھے۔

جئے سندھ قومی محاذ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کیمیائی تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے بشیر قریشی کے جراثومے تبدیل کردیئے گئے ہیں تاکہ یہ حقیقت چھپائی جاسکے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا، تاہم ڈاکٹر اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

جراثومے میں مبینہ ہیرا پھیری کے خلاف جئے سندھ قومی محاذ نے بدھ کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کی تمام ہی قوم پرست جماعتوں نے حمایت کی ہے۔

ہڑتال کے باعث کراچی میں سندھی آبادی والے علاقے، حیدرآباد، نوابشاہ، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، گھوٹکی، جیکب آباد، دادو، جام شورو، ٹھٹہ، بدین، میرپور خاص، عمرکوٹ اور مٹھی میں کاروبار بند ہے۔ جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہے۔

دوسری جانب ہڑتال کے اعلان کے بعد گزشتہ شب سندھ کے کئی شہروں میں فائرنگ اور کریکروں کے دھماکے کیے گئے، اس کے علاوہ کوٹڑی میں دو بوگیوں، خیرپور میں تین ٹرالروں اور نوابشاہ میں ایک خالی ٹینکر کو نذر آتش کردیا گیا۔

پولیس نے حیدرآباد، سکھر اور خیرپور سے ایک درجن کے قریب سیاسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں