اہلکاروں کی بازیابی کے لیے چندہ

بلوچستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پشین سے چار ماہ قبل غیر سرکاری تنظیم بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ’بی آر ایس پی‘ کے اغوا ہونے والے پانچ اہلکاروں کی بازیابی کےلیے حکومتی کوششوں سے مایوس ہوکر ان کے ورثا اور رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی اور اغوا کاروں کی جانب سے طلب کیےگئے تیئس کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے۔

ضلع پشین کے علاقے برشور سے گزشتہ سال تیرہ دسمبر کو طالبان نے عوام کو تعلیم و صحت اور پینے کے پانی کی فراہمی سمیت مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم ’بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام‘ کے چھ اہلکاروں سید مجیب الرحمان ، مقبول احمد، بشیراحمد، آفتاب احمد ، بور محمد کاکڑ اور عبدالغفور کو اغوا کر لیا تھا اور ان کی رہائی کے بدلے چالیس کروڑ روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق تاوان کی عدم ادائیگی پر طالبان نے ایک اہلکار مقبول احمد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ باقی پانچ اہلکاروں کے لیے تیرہ اپریل کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تاوان کی رقم نہ ملی تو دیگر پانچ اہلکاروں کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔

حکومتی سطح پر ہونے والی کوششوں سے مایوس ہوکر اغوا ہونے والے اہلکاروں کے ورثا نے اپنی مدد آپ کے تحت تاوان کی ادائیگی کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔

سید مجیب الرحمان کے چچا سید محمد اکرم آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہم نے ہر ایک دروازے پر دستک دی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی سمیت مختلف وزرا سے ملاقاتیں کیں، سب نے یقینی دہانی کرائی لیکن کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس پی کے ایک کارکن کو تاوان نہ ملنے پر قتل کر دیا گیا جس نے ہمیں تشویش میں مبتلا کردیا اس لیے ہم نے کوئٹہ کے باچا خان چوک پر یہ کیمپ لگایا ہے اور لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ چندہ دیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کو زندہ سلامت واپس لاسکیں۔

بی آر ایس پی کے اغوا ہونے والے ایک اور کارکن بشیراحمد کے ضعیف العمر والد شمس محمد نے بتایا کہ عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکی ہے اور ہم مایوس ہو کر یہاں آ بیٹھے ہیں۔

بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے ذرائع نے بتایا کہ ادارہ اپنے طور پر کارکنوں کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں