گلگت: فرقہ وارانہ فسادات، کرفیو برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہریوں کو مسلسل کرفیو کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان کے شمالی صوبے گلگت بلتستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد علاقے میں بدستور کرفیو نافذ ہے جبکہ کچھ علاقوں میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں ۔

گلگت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو گلگت شہر میں ایک بجے سے لے کر چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی اور اس دوران کچھ مقامات پر بازار اور تجارتی مراکز کھلے رہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرفیو میں نرمی کے دوران بازار میں جیکٹ پہننے، چادر اوڑھنے اور دو سے زائد افراد کا ایک جگہ جمع رہنے پر پابندی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں پچھلے دس دنوں سے کرفیو نافذ ہے جبکہ آج تیسرا دن ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل کرفیو کے باعث گلگت شہر میں کھانے پینے کی اشیاء اور پٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر میں کرفیو کے باعث تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بدستور بند ہیں جبکہ فوج اور پولیس کے دستے سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں فوج کی طرف سے سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

شہر میں موبائل ٹیلی فون سروس پچھلے دس دنوں سے معطل ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو دوسرے علاقوں سے رابطہ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ادھر دوسری طرف گلگت بلتستان کے ایک اور علاقے سکردو میں نو روز کی کشیدگی کے بعد حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں۔

سکرود سے ملنے والی اطلاعات کے بعد شہر میں کاروباری مراکز ، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر کھول دیے گئے ہیں تاہم شاہراہ قراقرم پر ٹرکوں کی سروس ابھی تک معطل ہے۔

خیال رہے کہ دس دن پہلے گلگت شہر میں ایک احتجاجی مظاہرے پر مسلح افراد کی طرف سے دستی بموں سے حملہ کیا گیا جس میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد گلگت اور آس پاس کے علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں