اٹارنی جنرل، سیکرٹری قانون تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی حکومت نے سیکرٹری قانون عرفان قادر کو مولوی انوار الحق کی جگہ نیا اٹارنی جنرل مقرر کیا ہے جبکہ مولوی انوار الحق کو ایوان صدر میں قانونی امور پر مشاورت کے لیے کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کی سابق جج یاسمین عباسی کو سیکرٹری قانون کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

واضح رہے کہ عرفان قادر کو کچھ عرصہ قبل مسعود چشتی کی جگہ سیکرٹری قانون تعینات کیا گیا تھا۔ مسعود چشتی اور سابق وزیر قانون بابر اعوان نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ میں بیان دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق حکومت کی قانونی ٹیم میں تبدیلیاں قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے کے بارے میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط لکھنے اور وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں حکومت کی نئی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

بدھ کو سابق وزیر قانون مولا بخش چانڈیو کو تبدیل کر کے اُن کی جگہ فاروق ایچ نائیک کو نیا وزیر قانون بنایا گیا تھا، فاروق ایچ نائیک اس سے پہلے بھی وزیر قانون اور ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نئے اٹارنی جنرل عرفان قادر سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ قومی احستاب بیورو یعنی نیب کے پراسکیوٹر جنرل بھی رہے ہیں۔

واضح رہے کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدام کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عرفان قادر کو جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے نیب کے پراسکیوٹر جنرل کے لیے ان کی دوسری مرتبہ تقرری غیر قانونی قرار دی تھی۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس کے تحت نیب کے پراسیکوٹر جنرل کے عہدے پر کسی شخص کا دوسری مرتبہ تقرر نہیں ہوسکتا۔

موجودہ حکومت کے دور میں عرفان قادر پانچویں اٹارنی جنرل ہیں اس سے پہلے ملک قیوم، سردار لطیف کھوسہ، انور منصور اور مولوی انوارالحق اس عہدے پر کام کرچکے ہیں۔

نئی تعینات ہونے والی سیکرٹری قانون یاسمین عباسی بھی تین نومبر کے اقدام کے خلاف موجودہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ ہیں۔

اُنہوں نے بھی تین نومبر کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔ اس اقدام پر عدالت عظمی کی طرف سے انہیں توہین عدالت کا نوٹس بھی دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں عدالت نے ان کے وکیل اعتزاز احسن کو بدھ تک اپنے دلائل مکمل کرنے کا کہا ہے جبکہ اس کے بعد اٹارنی جنرل اس پر دلائل دیں گے۔

آئندہ ہفتے وزیر اعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کے علاوہ ان کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی علی موسی گیلانی کی کیمیکل کوٹے کے مقدمے میں بھی اٹارنی جنرل کو بھی پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں