’آج صدر تو کل آرمی چیف کی باری آ سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

توہین عدالت کے مقدمے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے معاملے میں اگر صدر آصف علی زرداری کو سوئس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی مثال قائم کردی گئی تو پھر مستقبل میں کسی بھی غیر ملکی عدالت میں آرمی چیف کو بھی پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کا عہدہ ختم ہونے تک خط لکھنے کا معاملہ اگر مؤخر کر دیا گیا تو پھر یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو اُن کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل دس اے کے آئین کا حصہ بننے کے بعد توہین عدالت آرڈیننس متروک ہوگیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت کسی شخص کو بغیر سُنے سزا نہیں دی جاسکتی اور دوسرا کوئی بھی جج اپنے مفاد میں جج نہیں ہوسکتا۔

یاد رہے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراض اُٹھایا ہے کہ اس بینچ میں شامل کچھ ججز نے پہلے ہی اُن کے خلاف کارروائی کا ذہن بنا رکھا ہے اس لیے اُس مقدمے کی غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں ہوسکتی۔

بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرے تو پھر اُس میں جج کا اپنا مفاد کہاں سے آتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ججز کا مفاد صرف اتنا ہے کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ نیا آرٹیکل توہین عدالت کے قانون سے متصادم ہے تو پھر یہ خود بخود ختم نہیں ہوگا اس کے لیے اقدامات کرنا پڑیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر آئین کا یہ آرٹیکل توہین عدالت ارڈیننس کے متصادم ہے تو پھر اس کو چیلنج کیوں نہیں کرتے جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی قانون بنیادی انسانی حقوق کے متصادم ہو تو عدالت عظمی بھی اس کو ختم کرسکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل دس اے پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میں تشریح کے لیے آیا ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اُن کے مؤکل کے خلاف ازخود نوٹس لیا ہے اور اس میں سزا نہیں ہوتی بلکہ اصلاح کا پہلو نکلتا ہے۔ اُ؛نہوں نے کہا کہ کسی بھی ذمہ دار شخص کی خلاف کارروائی سپریم کورٹ نہیں بلکہ ضلعی عدالتیں کرتی ہیں۔

اُنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے شہری کو فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کے باوجود اُسے پاکستان سے نکال کر لےگیا اور آپ (بینچ) اپنے منتخب صدر کو اتنا بھی احترام نہیں دیں گے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ سوئس عدالتوں میں صدر زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے اور دوسری طرف قومی وقار کی بات کرتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ سوئس حکام کو مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھنے کے معاملے کو مؤخر کرنے کے حوالے سے دلائل بھی دیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ یہ ملکی وقار کا معاملہ ہے۔ اس از خود نوٹس کی سماعت جمعہ کے روز بھی جاری رہے گی ۔

اسی بارے میں