’دعا کے بعد بابا کا فون ضرور آئے گا‘

مصدق حسین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصدق کے اہل خانہ کو ابھی ان کی واپسی کی امید ہے

سیاچن، وانا، لیپہ، بلوچستان، کارگل اور کئی دوسرے اہم محاذوں پر فرائض انجام دینے والے مصدق حسین بٹ کے دل میں شہادت کی شدید خواہش تھی لیکن ان کی تقدیر میں ایک حادثے کی نذر ہونا لکھا تھا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی نیلم کے ایک گاؤں کیرن سے تعلق رکھنے والے حوالدار مصدق حسین بٹ کو پاکستان فوج میں ملازمت کرتے ہوئے چودہ برس ہوگئے ہیں۔

اس دوران کسی بھی اہم مشن کے لیے اپنی خدمات پیش کرنا وہ اپنے لیے سعادت سمجھتے رہے ہیں۔ کارگل کی لڑائی میں نشانِ حیدر پانے والے کرنل شیر خان کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے لڑائی کے آخری معرکے تک مصدق نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحتیوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

فوج کے ساتھ جذباتی وابستگی اس قدر تھی کہ شادی کے محض دس دن بعد ہی وہ وانا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حصہ بننے نکل پڑے اور تین ماہ بعد واپسی ہوئی۔ سیاچن میں تعینات ہوئے انہیں ماہ ِجون میں دو سال مکمل ہو جاتے۔

مصدق کے والد فرید احمد بٹ جو خود فوج کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار ہیں، بتاتے ہیں کہ مصدق کسی بھی مشکل صورتحال سے گھبراتے نہیں۔ گزشتہ برس سیاچن کے اگلے مورچوں پر تعیناتی کے دوران موسم شدید خراب ہوگیا اور انہیں وہاں سات ماہ کا عرصہ گزارنا پڑا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں کسی بھی فوجی اہلکار کو تین ماہ سے زائد تعینات نہیں کیا جاتا۔

بقول مصدق کی اہلیہ نورالصباء کے مصدق کو فوج کا شعبہ بے حد پسند تھا ان کا کہنا تھا ’فوج میں شہادت بھی ہے اور زندہ لوٹ آنے پر غازی کا رُتبہ بھی۔‘

مصدق حسین بٹ کے تین بچے ہیں۔ ایک بیٹا چھ برس کا ہے، بیٹی چار برس کی جبکہ ایک بیٹی محض دو ماہ کی ہے جسے ابھی مصدق نے دیکھا بھی نہیں۔ وہ دس اپریل کو گھر آنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

مصدق حسین بٹ کی پاکستان فوج کے ساتھ محبت اور جذباتی وابستگی اس قدر ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو بھی فوج میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

مصدق کی اہلیہ نور الصباء کا کہنا ہے کہ جب ان کا بیٹا صرف چھ ماہ کا تھا تو مصدق اسے راولپنڈی میں فوج کے کیڈٹ سکول میں داخل کرانے چل پڑے تھے۔ اس کے بعد چھ برس کا ہونے پر مصدق نے دوبارہ کوشش کی۔

تاہم اعلی فوجی افسران کے سمجھانے پر کہ کم سے کم بارہ برس کی عمر کے بچے کو ان کے ادارے میں داخل کیا جاتا ہے، وہ واپس لوٹ آئے۔ مصدق بہت بے چینی سے اپنے بیٹے کے بڑے ہونے کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ وہ اسے فوج میں کیپٹن کے عہدے پر دیکھنا چاہتے تھے۔

نورالصباء کہتی ہیں کہ پہلے تو انہیں امید ہے کہ مصدق لوٹ آئیں گے اور اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو وہ اُن کے اس خواب کو ضرور پورا کریں گی۔

مصدق حسین کا بیٹا بھی اپنے والد کی واپسی کے لیے پر امید ہے۔ اسے جب اس حادثے کا علم ہوا تو وہ فوراً وضو کرکے قران کی تلاوت کرنے بیٹھ گیا اور گھر والوں کو یقین دلایا کہ جب وہ دعا کریں گے تو ان کے بابا کا فون ضرور آئےگا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادیِ نیلم کے مصدق بٹ سمیت نو فوجی جوان اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک مصدق کا ہمسایہ اور دوست محمد ارشاد بھی ہے۔

ان فوجی اہلکاروں کے خاندان والوں کو حادثے اور امدادی کارروائیوں کی تازہ صورتحال کے بارے میں صرف خبروں سے معلوم ہوتا ہے۔

بیس سال قبل مصدق حسین بٹ جب تعلیم کی غرض سے مظفرآباد آئے اور ہمارے قریبی عزیز ہونے کی وجہ سے دو برس ہمارے گھر میں مقیم رہے تو اس وقت محدود وسائل میں اعلی تعلیم حاصل کرکے کچھ کر دکھانے کا عزم اس نوجوان کی روشن آنکھوں سے جھلکتا تھا۔ اس کے بعد جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ کارگل کی لڑائی کے بعد لوٹے تھے۔ ایک فوجی ہونا جیسے ان کا سب سے بڑا فخر تھا۔

مصدق حسین بٹ نے جمعے کی شام گھر والوں سے فون پر بات کی تھی۔ اور سنیچر کی صبح یہ حادثہ ہوگیا۔

مصدق کی اہلیہ نورالصباء کے مطابق سیاچن سے چھٹی پر آنے والے ایک دوسرے فوجی نے ان کے گھر والوں کو بتایا ہے کہ مصدق شاید تنخواہ لینے کے بعد اگلے مورچوں پر جانے والے تھے۔ اسی وجہ سے سب کو امید ہے کہ شاید حادثے کے وقت وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

سیاچن میں برفانی تودے کے حادثے کو چھ روز ہونے کو ہیں۔ مصدق حسین بٹ کے گھر والے اس حقیقت سے تو آشنا ہیں کہ حادثے کے اتنے دن گزرنے کے بعد اب کسی اچھی خبر کی امیدیں معدوم ہو رہی ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک مصدق کا سوگ منانا شروع نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں