(ن) لیگ اور جمعیت (ف) کا یوٹرن، ماجرا کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوال یہ ہے کہ پارلیمان کی بالادستی کی حقیقت کیا ہے؟

امریکہ سے سفارتی تعلقات کے ازسرِنو تعین کے لیے رہنما اصول واضح کرنے کے لیے پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کی سفارشات جو گزشتہ تین ہفتوں سے متنازعہ بنی ہوئی تھیں، تین گھنٹے سے بھی کم وقت میں اتفاق رائے سے گزشتہ شب بنا کسی بحث کے منظور کر لی گئیں۔

ڈرون حملے روکنے اور نیٹو سپلائی بحال نہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علماء اسلام (ف) نے اچانک اپنے اعتراضات اور اختلافی نوٹ واپس لے لیے اور تمام سفارشات کو ایک قرارداد کی صورت میں منظور کرلیا۔

اس سب کے باوجود قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتائیں کہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد بھی اگر امریکہ نے ڈرون حملے کیے، سلالہ کی طرح کسی اور چوکی پر حملہ کیا، بھارت کی طرح سویلین جوہری تعاون کی سہولت نہیں دی اور طالبان سے امن مذاکرات میں شامل نہیں کیا تو پاکستانی حکومت کیا کرے گی؟

انہوں نےیہ دھمکی بھی دی کہ اگر وزیراعظم نے (ن) لیگ کے سوالات کا واضح جواب نہیں دیا تو وہ ترمیمی سفارشات پر دستخط نہیں کریں گے۔ وزیراعظم نے گول مول باتیں کیں اور چوہدری نثار کی کسی بات کا واضح جواب نہیں دیا لیکن جب سفارشات کی منظوری کے لیے اسحٰق ڈار نے اشارہ دے دیا اور منظوری ہوگئی تو چوہدری نثار علی خان تو جیسے پتلی گلی سے نکل گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چوہدری نثار علی خان کے لب و لہجہ سے واضح لگ رہا تھا کہ وہ کمیٹی کی تیار کردہ متفقہ سفارشات پر خوش نہیں۔

کئی کئی گھنٹے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں کا بیس روز سے زیادہ عرصے سے انتظار کرنے والے صحافی بھی پریشان تھے کہ آخر ہوا کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علماء اسلام (ف) والے جو ایک ایک لفظ پر بال کی کھال اتارنے والا کام کر رہے تھے، وہ اچانک اتفاق رائے سے سفارشات منظور کرانے پر کیسے راضی ہوئے؟

اس کی بظاہر دو وجوہات ہیں، ایک درپردہ امریکی فرمائش نما دباؤ اور دوسرا حکومتی دھمکی کہ اگر اپوزیشن اتفاق رائے کے لیے تیار نہیں ہوتی تو اکثریت رائے سے سفارشات منظور کرائی جائیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا فٰضل الرحمٰن سے تو امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کھلے عام ملاقات کی لیکن ایک سیاسی جماعت کے لیڈر نے پاکستان میں امریکی نمائندوں سے ملاقات کرنے سے معذرت کرلی اور اس کام کے لیے دبئی کا مقام چُنا۔

صدر آصف علی زرداری نے چند روز قبل ایوان صدر میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات میں کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کو منا لیں گے اور اگر مسلم لیگ (ن) راضی نہیں ہوتی تو اکثریت رائے سے سفارشات منظور کر لی جائیں اور اس کے بعد سب نے حامی بھر لی۔ اس سے حکومت کی کوشش یہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) کو تنہا کردو اور امریکہ بھی ان سے ناراض ہوگا کہ وہ ہی اس میں رکاوٹ تھے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ صدر آصف علی زرداری کا نام لیے بنا حکومتی دھمکی کا چوہدری نثار علی خان نے مشترکہ اجلاس سے ترمیمی سفارشات کی منظوری کے وقت ذکر بھی کیا اور کہا کہ اگر ان کی رضا مندی کے بنا سفارشات منظور ہوئیں تو وہ پارلیمان کی نہیں بلکہ حکومت کی سفارشات کہلائیں گی۔

چوہدری نثار علی خان کے لب و لہجہ سے واضح لگ رہا تھا کہ وہ کمیٹی کی تیار کردہ متفقہ سفارشات پر خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں پاکستانی سفیر شیری رحمٰن کا بھی تذکرہ کیا اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے انہیں جدوجہد پر سراہا بھی۔

شیری رحمٰن گزشتہ چند ہفتوں سے اسلام آباد میں سرگرم رہیں اور آخر کار ’ڈیڈ لائن‘ کے اندر سفارشات کی منظوری پر خوش نظر آئیں۔ وہ پارلیمان کی کارروائی دیکھتی رہیں اور وزیراعظم کے چیمبر کے چکر بھی لگاتی رہیں۔ پارلیمانی کارروائی دیکھنے کے لیے کئی ممالک کے سفارتکار اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی آمد بھی اس بات کا عندیہ تھا کہ شاید ہر حال میں جمعرات کو سفارشات بنا بحث کے منظور ہوجائیں گی۔

منظور کردہ سفارشات ڈرون حملے روکنے، غیر ملکی خفیہ ایجنٹوں کو پاکستان میں کام نہ کرنے، پاکستان کی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے، سلالہ جیسے حملے دوبارہ نہ کرنے، تعاقب کرتے ہوئے پاکستان میں نہ گھسنے سمیت متعدد نکات شامل ہیں۔ تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان پر عمل ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں کیا ہوگا؟

ہاں البتہ ایک بات یہ ضرور ہوئی کہ مقامی ذرائع ابلاغ ہوں یا عوام، انہیں یہ باور کرایا گیا کہ پہلی بار خارجہ پالیسی کے لیے رہنما اصول پارلیمان نے طے کیے ہیں اور دنیا کو بھی یہ پیغام ملا کہ ماضی کی طرح انہیں صرف فوجی ڈکٹیٹر سے بات نہیں کرنی بلکہ لولی لنگڑی پارلیمان سے ان کا پالا پڑا ہے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے حالیہ دورے پر آئے ہوئے نائب امریکی وزیر خارجہ تھومس نائیڈز نے کہا تھا کہ امریکہ دنیا کی ایک ’میچوئر جمہوریت‘ ہے اور انہیں اندازہ ہے کہ پارلیمان کی کیا اہمیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ صبر سے کام لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں