کابینہ میں گیارہ نئے وزرا کا اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قمر زمان کائرہ نے بھی جمعے کے روز حلف اٹھایا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو پانچ نئے وفاقی وزرا اور چھ وزرائے مملکت سے حلف لیا ہے جس کے بعد کابینہ کے اراکین کی تعداد پچاس سے زائد ہوگئی ہے۔

ایوان صدر میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم سمیت اراکین پارلیمان اور اعلٰی سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر کے طور پر حلف اٹھانے والوں میں راجہ پرویز اشرف، قمرالزمان کائرہ، نذر محمد گوندل، فرزانہ راجہ اور رانا فاروق سعید خان شامل ہیں۔

جبکہ وزرائے مملکت کے طور پر سید صمصام بخاری، تسنیم قریشی، ملک عماد، ملک عظمت، راحیلہ بلوچ اور عباس خان آفریدی نے حلف اٹھایا۔

عباس خان آفریدی کا تعلق فاٹا سے ہے اور وہ آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو حلف اٹھانے والے گیارہ ہی وزیروں کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی سے ہے۔

نئے وفاقی وزرا اور وزرا مملکت کی کابینہ میں شمولیت کے بعد بڑے پیمانے پر وزرا کے محکموں کی تبدیلی ہوگی۔ جس کا اعلان بعد میں ہوگا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت کابینہ کی تعداد اراکین پارلیمان کی تعداد کے گیارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتی اور اس اعتبار سے موجودہ کابینہ میں انچاس وزیر رکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئین کے تحت وزیرِاعظم کو پانچ مشیر رکھنے کی بھی اجازت ہے۔

موجودہ کابینہ میں انتیس وفاقی وزیر، سات وزرائے مملکت اور چار مشیر شامل ہیں جبکہ وزیراعظم نے تین افراد کو اپنا معاونِ خصوصی بھی مقرر کر رکھا ہے۔

پانچ نئے وفاقی وزرا اور چھ نئے وزرائے مملکت کے بعد مشیروں سمیت کابینہ کے اراکین کی تعداد اکیاون بنتی ہے لیکن اگر اس میں تین معاون خصوصی بھی شامل کریں تو کابینہ کے ارکان کی تعداد چون ہوجاتی ہے جوکہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ حد ہے۔

لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم میں یہ بھی لکھا ہے کہ وزرا کی تعداد کے بارے میں جو شق ہے اس کا اطلاق آئندہ عام انتحابات کے بعد بننے والی حکومت پر ہوگا۔

اسی بارے میں