کراچی: غیر ملکی پینتالیس دن کے بعد بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے شہر سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے والے غیر ملکی ادارے کے مغوی اہلکار اور ان کے ڈرائیور کو ڈیڑھ ماہ کے بعد بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ کراچی سے تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر دور قومی شاہراہ پر نوشہرو فیروز ضلع کی حدود میں پیش آیا تھا۔

ایس پی نوشہرو فیروز جاوید جسکانی کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکی اہلکار ٹام اور ان کے ڈرائیور گدا حسین کو مقابلے کے بعد بازیاب کرایا گیا۔

دوسری جانب غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق ڈاکو مغویوں کو خانواھن شہر کے قریب نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ گئے تھے جنہیں پولیس نے اپنی تحویل میں لیا تاہم پولیس ان اطلاعات کو مسترد کرتی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈی ایس پی غلام علی بروہی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ڈاکوں کے ساتھ مقابلے میں ان کے دو جوان ہلاک بھی ہوگئے تھے مگر پولیس نے ان پر دباؤ برقرار رکھا۔

دوسری جانب غیر ملکی اہلکار ٹام نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اغواء کے بعد ایک جگہ پہنچایا گیا، جہاں انہیں کمرے میں بند کردیا گیا۔

ان کے بقول انہیں زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جاتا اور باہر جاتے وقت آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پینتالیس دن تک کھانے میں صرف آلو کا سالن اور لسی دی جاتی تھی۔

واضح رہے کہ مسٹر ٹام کینیا کی شہریت رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق کیئر انٹرنیشنل نامی این جی او سے ہے، جو سنہ دو ہزار دس کے سیلاب کے متاثرین کی بحالی کے لیے سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں کام کر رہی ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ اغوا برائے تاؤن کا واقعہ ہے اور اس کا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں مگر اغواء کاروں کی جانب تاوان کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں