سیاست کی ایک رات

مریم نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption سابق وزیر اعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز شریف نئے سیاستدانوں میں ٹوِٹر پر سب سے زیادہ متحرک نظر آئیں۔ ان کے ساتھ ٹوِٹر پر نو ہزار ایک سو سے زیادہ لوگ رابطے میں ہیں۔

یہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہے۔ کوئی سیاسی جلسہ نہیں ہو رہا، اخبار بازار میں آنے میں ابھی بہت وقت ہے۔ ٹی وی کے اینکر اپنے سیاسی مباحثے کروا کر گھروں کو جا چکے ہیں لیکن انٹرنیٹ پر سیاست جاری ہے۔ مختلف سیاستدانوں اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان پیغام رسانی جاری ہے جس سے ملک کے عمومی سیاسی ماحول کی جھلک بھی ملتی ہے۔

کچھ ہی دیر پہلے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوِٹر پر مریم نواز شریف نے جنید اقبال نامی ایک صاحب کا پیغام ری ٹویٹ یعنی دوبارہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ممتاز علی بھٹو نے اپنی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ مسلم لیگ ن میں ضم کر دی ہے۔

محمد عثمان نامی ایک نوجوان نے ان سے اس خبر کی تصدیق کا مطالبہ کیا تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نے ٹوِیٹ کیا کہ یہ خبر درست ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان اگلے چند روز میں ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی مریم نواز شریف نے کسی کی یہ غلط فہمی دور کی کہ وہ این اے ایک سو اٹھارہ سے قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیں گی۔ انہوں نے دو گھنٹے قبل گلوکار علی ظفر کا ایک پیغام بھی ری ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے فوڈ سٹریٹ شروع کرنے پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے نام سے ٹوِٹر پر ایک اکاؤنٹ سے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر جاری ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کی پانچ ’اہم‘ سیاسی شخصیات نے پی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ٹوِیٹ میں اے پی پی کی خبر کا لنک دیا گیا ہے جس کے مطابق ان پانچ سیاستدانوں میں رانا سہیل نون، رائے منصب علی، رانا قاسم نون، ملک مجید بچہ اور ملک صداقت بچہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption آصفہ کے ساتھ ٹوِٹر پر بائیس ہزار چھ سو سے زیادہ اور ان کی بڑی بہن بختاور کے ساتھ پچیس ہزار سے زیادہ لوگ رابطے میں ہیں

دو گھنٹے قبل ٹوِٹر پر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس کے بیرون ملک مقیم حامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ یو ٹیوب پر عمران خان کا پیغام سن لیں۔ عمران خان کے ساتھ ٹوِٹر پر دو لاکھ چوالیس ہزار سے زیادہ لوگ رابطے میں ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف نے حسیب اسلم نامی ایک صاحب کا پیغام ’ری ٹویٹ‘ کیا جس میں حسیب نے انہیں بتایا کہ وہ جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے حکومت پنجاب کے کئی ترقیاتی پروگرام دیکھے۔ انہوں نے مریم نواز شریف کو اس بات کی مبارکباد دی۔

اب سے تین گھنٹے قبل تحریک انصاف کی جانب سے بلوچستان کی صورتحال پر اور وہاں اپنی جماعت کی کارروائیوں کے بارے میں تین پیغامات جاری ہوئے۔

تین گھنٹے قبل ہی پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری نے ٹوِٹر پر ملک میں پولیو کےخاتمے، کینسر کے علاج، دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کی امید ظاہر کی تھی۔

چار گھنٹے قبل ہی پیپلز پارٹی کی سابق رہنما بینظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان نے ٹوٹِر پر سرائیکی صوبے کے بارے میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا اس میں بھی کوئی سیاسی چال ہے؟ انہوں نے اس پر لوگوں کی رائے طلب کی تھی۔ ناہید خان ٹوِٹر پر زیادہ متحرک تو نہیں لیکن فروری کے مہینے میں ان کا اور بینظیر بھٹو کی بڑی بیٹی بخت آور بھٹو زرداری کا ٹوِٹر پر مکالمہ خبروں کی زینت بنا تھا۔

اس سے پہلے عمران نے ایک پیغام میں اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی بات مانی تھی۔ انہوں نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ہم سب پاکستان تحریک انصاف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سے پہلے ایک پیغام میں اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے مخالفین اور ناقدین کے خلاف غلط زبان مت استعمال کریں اور مثال سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں۔

پی پی پی کے شریک سربراہ بلاول بھٹو زرداری گو کہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر زیادہ متحرک نہیں لیکن ان کا انڈیا کے دورے کے دوران ٹوِیٹ ہونے والا وہ پیغام خبروں میں آیا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ایک ایٹمی ہتھیار بھی تباہی کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سے بہتر ہوگا کہ ہم تعلیم، صحت اور کاروبار بڑھانے پر اخراجات کریں۔ ان کے ساتھ سترہ ہزار سے زیادہ لوگ ٹوِٹر پر رابطے میں ہیں۔

پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر لوگوں کی بہت زیادہ موجود نہیں ہے لیکن بہت سے سیاستدانوں کے ان پر متحرک ہونے سے معلوم ہوتا ہے اسے وقت کی اہم ضرورت اور مستقبل میں لوگوں سے براہ راست رابطے کے اہم ذریعے کے طور پر قبول کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں