لاہور: سیسل چودھری چل بسے

تصویر، بشکریہ ویکی پیڈیا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

معروف ماہر تعلیم اور پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ گروپ کیپٹن سیسل چودھری علالت کے باعث لاہور میں انتقال کرگئے۔

ستر سالہ سیسل چودھری پھیپھڑوں کے کینسر میں متبلا تھے اور انہوں نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال لاہور میں آخری سانسیں لیں۔

ان کی آخری رسومات اتوار کو لاہور میں ادا کی جائیں گی اور ان کی تدفین جیل روڈ پر واقع قبرستان میں کی جائے گی۔

سیسل چودھری معروف صحافی فوٹو گرافر ایف ای چودھری کے بیٹے تھے اور انہوں نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑا۔

آل پاکستان مینارٹیز الائنس نے سیسل چودھری کے انتقال پر دس روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

سیسل چودھری ستائس اگست انیس سو اکتالیس میں کرسچن فیملی میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ انتھونی سکول لاہور سے حاصل کی اور ایف سی کالج لاہور سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مارچ انیس سو اٹھاون میں پاکستان فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سیسل چودھری نے پینسٹھ اور اکہتر کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے پیسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بھارتی ٹھکانوں کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے انیس سو اکہتر کی جنگ میں بطور پائلٹ اہم کردار ادا کیا۔

حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ جرآت اور تمغۂ جرآت کے اعزازات سے نوازا اور وہ قومی ہیرو کے طور پر جانے جاتے تھے۔

سیسل چودھری نے سال انیس سوچھیاسی میں پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد شعبہ تعلیم سے واسبطہ ہوگیا اور کئی برس تک سینٹ انتھونی سکول کے پرنسپل کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ بعد میں وہ سینٹ میری اکیڈمی راولپنڈی کے پرنسپل بن گئے۔

سیسل چودھری نے پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے ڈائریکٹر کے حیثیت سے بھی کام کیا۔انہوں نے تعلیم کے شعبہ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے بھی کام کیا۔ وہ قومی کمیشن برائے انصاف اور امن کے بھی منسلک رہے اور اقلیتوں کے لیے مخلوط طریقہ انتخابات کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

اسی بارے میں