گلگت: اڑتالیس گھنٹے بعد کرفیو میں نرمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی حکومت نے فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ علاقے گلگت میں اڑتالیس گھنٹے بعد کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سنیچر کو یہ نرمی مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے سے لیکر شام چھ بجے تک رہے گی۔

اطلاعات کے مطابق علاقے میں کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے خرد و نوش کی قلت کا سامنا ہے۔

دوسری طرف وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے حقائق جاننے سے متعلق گلگت بلتستان کی سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کمیشن میں گلگت بلتستان ہائی کورٹ کے جج کے علاوہ شعیہ اور سُنی فرقے سے ایک ایک عالم بھی شامل ہوگا جبکہ صوبائی سیکرٹری داخلہ اس کمیشن کے سیکرٹری کی حثیت سے فرائض انجام دیں گے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ کمیشن کب سے کام شروع کرے گا اس ضمن میں حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

سنیچر کو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے مجلس وحدت المسلمین کے مولانا امین شہیدی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن ایسے واقعات کے تدارک کے لیے تجاویز بھی دے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے مطابق علاقے میں شعیہ سُنی فسادات نہیں بلکہ کوئی تیسری طاقت ملوث ہے جس کا پتہ چلایا جا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی بات کو ان واقعات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ چلاس میں ہونے والے واقعات کے بعد شعیہ برادری نے سُنی برادری جبکہ سُنی برادری نے شعیہ برادری کو تحفظ فراہم کیا۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں اہل سنت والجماعت کے رہنما کی قتل کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد اس جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف سڑکیں بند کر دی تھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ علاقے میں ایف سی اور سکیورٹی فورسز کی موجودگی سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے بھی حالات میں بہتری آئی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موسم صاف ہونے کی صورت میں وہ گکلت بلتستان کا دورہ کریں گے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے چلاس اور کوہستان میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے اور ان واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری کے مطالبے پورے کرنے کی یقین دہانی کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ گُزشتہ چار روز سے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا ہوا تھا

اسی بارے میں