’سیاچن پر معاہدہ موجود، عملدرآمد کی ضرورت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے متنازع علاقے سیاچن کے مسئلے کے حل کا معاہدہ موجود ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ اس معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے۔

یہ بات دفترِ خارجہ کی جنوبی ایشیا ڈیسک کی ڈائریکٹر جنرل زہرہ اکبری نے ہفتے کو گیاری سیکٹر واقعے پر دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔

یاد رہے کہ سات اپریل کو گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 139 فوجی اور شہری اہلکار دبے ہوئے ہیں۔

ہفتے کو دی گئی بریفنگ میں پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم نے گیاری میں جاری امدادی کاموں کے حوالے سے میڈیا کو بتایا۔

بریفنگ میں سیاچن کے مسئلے کے حل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر ڈی جی جنوبی ایشیا ڈیسک زہرہ اکبری نے کہا ’ہمارے خیال میں ایک معاہدہ پہلے ہی موجود ہے جو 1989 میں وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے درمیان ہوا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ شملہ معاہدے کے تحت دونوں وزراءِ اعظم کے درمیان سیاچن کے مسئلے کے حل کے لیے اصولی فیصلہ ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’میرے خیال میں اب اس معاہدے پر عملدرآمد کی ضرورت ہے کیونکہ اس مسئلے کا حل ہی اس قسم کے سانحوں سے بچت کا راستہ ہے۔

پاکستانی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم نے میڈیا کو بتایا کہ سیاچن کے علاقے گیاری سیکٹر میں نئی بٹالین تعینات کردی گئی ہے۔

اس بٹالین کو ناردرن لائٹ انفنٹری چھ سے تعلق رکھنے والے ایک سو اُنتالیس افراد برف تلے دبے جانے کے بعد تعینات کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا ’دو مقامات پر بیس تک پہنچ گئے تھے لیکن وہاں کچھ نہیں ملا۔ بیس پر پہنچ کر بھاری مشینری استعمال نہیں کی جاسکتی کیونکہ خطرہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی نیچے ہے تو اس کو نقصان نہ پہنچے۔‘

انہوں نے کہا کہ جدید آلات اور مشینوں کے ذریعے کھدائی کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ برف کو ہٹانے اور ٹارگٹ تک پہنچنے کے لیے چھوٹے دھماکے بھی کیے گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ برفانی تودوں سے بچنے کے لیے بٹالین کا ہیڈ کوراٹر محفوظ جگہ پر بنایا گیا تھا لیکن برفانی تودہ اتنا بڑا تھا کہ بٹالین کا ہیڈ کوراٹر اُس کی زد میں آگیا۔ میجر جنرل اشفاق ندیم کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے میں ستر سے سو فٹ تک برف موجود ہے

میجر جنرل اشفاق ندیم کا کہنا تھا کہ جرمن اور سوئس ٹیموں نے دو اور مقامات پر جوانوں کے دبے ہونے کی نشاندہی کی ہے اور تین مقامات پر بھاری مشینری کی مدد سے جبکہ بقیہ تین مقامات پر کدالوں سے کھدائی کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غیر ملکی امدادی ٹیموں کی آمد سے ریسکیو آپریشن میں تیزی آئی ہے: پاکستان فوج

اُنہوں نے کہا کہ وہ سات روز سے برف کے نیچے دبے ہوئے افراد کے زندہ رہنے کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔

پاکستانی فوج کی طرف سے گیاری سیکٹر کے واقعہ کے بعد پہلی باضابطہ بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔

میڈیا کے ارکان کو نقشوں کی مدد سے جائے حادثہ کے بارے میں بتایا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ غیر ملکی ٹیموں کی آمد کے بعد ریسکیو کے کاموں میں تیزی آ گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ موسم بہتر ہونے کی صورت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی جائے حادثہ پر لے جایا جائے گا۔

اسی بارے میں