’ڈرون حملے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ v
Image caption سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد امریکہ نے کم از کم دو مہینوں تک ڈرون حملے بند رکھے تھے

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کا پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات سے متعلق سفارشات کی منظوری کے بعد امریکی حکام کے اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ طور پر سفارتی محاذ میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔

اے پی کے مطابق امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں کے دوران کوشش کرے گا کہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ بنیادوں پر لائحہِ عمل تیار کرئے تاہم اگر سی آئی اے کو پاکستان کے اندر کوئی بھی مشکوک ہدف نظر آیا تو وہ اس کو نشانہ بنائیں گے۔

اے پی کے مطابق دو سینئیر امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر یہ بھی بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس سلالہ چیک پوسٹ پر پچھلے سال نومبر میں ہوئے نیٹو کے فضائی حملے پر باضابطہ طور پر معافی مانگنے پر غور کر رہا ہے۔

دوسری طرف برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اندر امریکی ڈرون حملوں کی تعداد میں کمی سے پتہ چلتا ہے کہ القاعدہ کے اہم رہنماؤں کو ہلاک کرنے اور شدت پسندوں کو زیرزمین جانے پر مجبور کرنے کے مقصد میں ڈرون حملے کامیاب رہے ہیں۔

رائیٹرز کے مطابق سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد امریکہ نے کم از کم دو مہینوں تک ڈرون حملے بند رکھے اور اس کے بعد اس سال جنوری میں جنوبی وزیرستان میں یہ حملے دوبارہ شروع کیے گئے لیکن پچھلے برسوں کی نسبت ان حملوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

پاکستان کی پارلیمان نے جمعرات کو امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق قومی سلامتی کی کمیٹی کی سفارشات کا ترمیمی مسودہ اتفاق رائے سے منظور کیا تھا جس میں حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو اسلحے کی فراہمی کے لیے پاکستان کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہوگی۔

کمیٹی نے اپنی ترمیمی سفارشات میں حکومت سے کہا تھا کہ وہ ڈرون حملے فوری طور پر بند کرانے اور پاکستانی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی جانب سے دہشت گردوں کے تعاقب سمیت کسی بھی صورت میں داخل ہونے پر پابندی لگائے۔

سفارشات میں کہا گیا تھا کہ کسی خفیہ ایجنٹ یا نجی سکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کو پاکستان میں کام کرنے یا پاکستان میں خفیہ یا اعلانیہ کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور نہ ہی پاکستانی سرزمین کسی غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کے لیے استعمال کی جانی چاہیے۔

کمیٹی نے کہا تھا کہ حکومت امریکہ سے کہے کہ وہ سلالہ چیک پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی مانگے اور حملے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پاکستان نے چھبیس نومبر کو سرحدی چوکی سلالہ پر نیٹو کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو فوج کو رسد لے جانے والے زمینی راستے بند کردیے تھے۔اس حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں